ایران کا بھرپور جوابی وار، کلسٹر بموں سے لیس خیبر شکن میزائل سے تل ابیب پر حملہ

0 minutes, 0 seconds Read

ایرانی پاسداران انقلاب نے کلسٹر بموں سے لیس خیبر شکن میزائل سے تل ابیب پر حملہ کردیا۔

ایرانی میڈیا اور بعض بین الاقوامی ذرائع کے مطابق ایران نے اسرائیل پر درجنوں ڈرونز اور میزائلوں سے حملے کیے ہیں۔

عرب میڈیا کے مطابق تل ابیب کی فضائی صورتحال براہ راست دکھانے والے کیمرے کو عین اس وقت نیچے کرکے سڑک کی جانب کردیا گیا تاکہ فضاؤں میں ایرانی میزائل داخل ہوتے نہ دیکھے جاسکے ۔ حملے کےوقت تل ابیب میں سائرن بھی نہیں بجائے گئے۔

دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ ایرانی ڈرونز نے خلیج عمان میں موجود امریکی بحری بیڑے کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی۔

رپورٹس کے مطابق حملے کے بعد امریکی بحری بیڑا، جس میں طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن شامل بتایا جا رہا ہے، خلیج کے علاقے سے کچھ فاصلے پر منتقل ہو گیا۔

رپورٹس کے مطابق بحرین کے دارالحکومت منامہ میں دو ہوٹلوں اور ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم بحرینی حکام کی جانب سے ان حملوں کے نتیجے میں ہونے والے ممکنہ نقصانات کے بارے میں تفصیلی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا۔

ادھر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران میں مختلف مقامات پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ایران کے زیر زمین میزائل اڈوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ بوشہر کے فضائی اڈے پر بھی حملہ کیا گیا۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق ایران میں تیرہ مراکز صحت کو بھی نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں چار ہیلتھ ورکرز ہلاک جبکہ پچیس سے زائد افراد زخمی ہوئے۔

رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تہران میں ایک فٹ بال اسٹیڈیم کو بھی حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ اصفہان میں ایران کا فضائی دفاعی نظام تباہ کر دیا گیا ہے جبکہ قم میں ایک بیلسٹک میزائل لانچر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

اسرائیلی حکام کے مطابق میزائل حملوں کے دوران مختلف شہروں میں خطرے کے سائرن بجائے گئے اور شہریوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات دی گئیں۔ سکیورٹی اداروں نے ہنگامی اقدامات کرتے ہوئے صورتحال کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے اسرائیل کے علاوہ خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بھی میزائل اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

اسی دوران بحرین میں ایک آئل ریفائنری پر میزائل حملے کی اطلاع بھی سامنے آئی، تاہم بحرینی حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا اور تنصیبات محفوظ ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی میں بھی دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاعات ملی ہیں لیکن حکام نے اس حوالے سے فوری طور پر تفصیلی وضاحت نہیں کی۔

آذربائیجان میں بھی ایک ڈرون حملے کی خبر سامنے آئی ہے جس میں ایک آذری شہری کے زخمی ہونے کی اطلاع دی گئی ہے، تاہم ایران نے اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران اس وقت جنگ بندی کا خواہاں نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں امریکا کے ساتھ مذاکرات کا کوئی واضح جواز نہیں بنتا، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ وقت کے ساتھ حالات تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور مستقبل میں صورتحال مختلف ہو سکتی ہے۔

علاقائی اور عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ حملوں اور جوابی کارروائیوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔ مختلف ممالک اور بین الاقوامی ادارے صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر کشیدگی کم نہ ہوئی تو اس کے اثرات پورے خطے پر پڑ سکتے ہیں۔

Similar Posts