کراچی میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے ملاقات کی، جس میں عالمی تیل قیمتوں میں اضافے، ایندھن کے ذخائر اور ممکنہ توانائی بحران سے نمٹنے کے اقدامات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اتوار کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والی اس ملاقات میں صوبائی وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار، چیف سیکرٹری سندھ، سیکرٹری توانائی اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔
اجلاس کے دوران حکام نے شرکا کو عالمی توانائی منڈی کی صورت حال اور ملک میں ایندھن کے ذخائر سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی اور بتایا کہ اگر مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع میں مزید شدت آئی تو خام تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے۔
حکام کے مطابق عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے باعث ملکی معیشت اور توانائی کے شعبے پر اثرات کا خدشہ موجود ہے جب کہ اجلاس میں میں توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بچتی اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ توانائی کے ذمہ دارانہ استعمال اور عوامی تعاون کی ضرورت ہے جب کہ قومی معیشت کا پہیہ چلتا رکھنا حکومت کی ترجیح ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں زیر غور تمام تجاویز کو کابینہ میں بھی پیش کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ وفاقی حکومت عالمی توانائی منڈیوں کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے اور قیمتوں کے ممکنہ مالی اثرات سے نمٹنے کے لیے متبادل منصوبے تیار کیے جا رہے ہیں۔
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ ایندھن بچت کے اقدامات ضروری ہیں تاکہ موجودہ ذخائر زیادہ دیر تک برقرار رہ سکیں۔ اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ کل تک پپٹرول کے 3 جہاز کل تک پاکستان پہنچنے کی توقع ہے۔
اجلاس میں پیٹرول پمپوں پر ذخیرہ اندوزی کے خدشے سے بھی آگاہ کیا گیا۔ حکام کے مطابق ذخیرہ اندوزی کی روک تھام کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان رابطہ مزید بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر پٹرولیم نے کہا کہ قطر کے اعلان کے بعد ایل این جی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے تاہم ایندھن ذخائر کی نگرانی کے لیے صوبوں کے ساتھ مشترکہ ڈیش بورڈ تیار کررہے ہیں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ سعودی عرب، عمان اور متحدہ عرب امارات سے متبادل ایندھن سپلائی کے لیے رابطے جاری ہیں جب کہ دیگر راستوں سے تیل کی فراہمی یقینی بنانے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔
وزیر پیٹرولیم نے مزید بتایا کہ آئی ایم ایف سے پیٹرولیم لیوی میں ریلیف کے لیے درخواست کرنے کا ارادہ بھی زیر غور ہے۔ اجلاس میں توانائی صورت حال سے نمٹنے کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان رابطہ جاری رکھنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔