بیرون ملک بھجوانے کے جھانسے کے کیس میں جسٹس ہاشم کاکڑ کا متاثرہ شہری سے دلچسپ مکالمہ

0 minutes, 0 seconds Read
سپریم کورٹ میں بیرون ملک بھجوانے کا جھانسہ دے کر شہری سے رقم وصول کرنے والے ملزم کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، اس دوران عدالت کا متاثرہ شہری کے ساتھ دلچسپ مکالمہ بھی ہوا۔

دوران سماعت جسٹس ہاشم کاکڑ نے استفسار کیا کہ ملزم نے کتنی رقم وصول کی۔ اس پر وکیل مدعی نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے شہری سے ساڑھے 17 لاکھ روپے وصول کیے تھے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے متاثرہ شہری سے مکالمہ کرتے ہوئے پوچھا کہ کس ملک جانے کے لیے پیسے دیے تھے۔ شہری نے بتایا کہ یونان جانے کے لیے رقم ادا کی تھی۔

اس موقع پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ یونان جا کر تم نے دربدر ہی ہونا تھا، جوان آدمی ہو بہتر ہے یہاں ہی محنت مزدوری کرو۔ انہوں نے مزید کہا کہ کشتیوں کے ذریعے بیرون ملک جاتے ہوئے کئی لوگ مر بھی جاتے ہیں۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کیا ملزم نے رقم لینے کے بعد شہری کو بیرون ملک بھجوایا؟۔ اس پر وکیل مدعی نے بتایا کہ نہ تو شہری کو بیرون ملک بھجوایا گیا اور نہ ہی رقم واپس کی گئی۔

وکیل مدعی کے مطابق ملزم کی جانب سے دیے گئے چیک بھی باؤنس ہو گئے جبکہ چیک باؤنس ہونے کے مقدمات الگ سے درج کروائے گئے ہیں۔

دوران سماعت وکیل ملزم نے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ میں یہ ان کا پہلا مقدمہ ہے، تیاری کے لیے مہلت دی جائے۔ اس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ عدالت عید سے پہلے فیصلہ کر دے گی، اگر ضمانت بنتی ہوئی تو مل جائے گی ورنہ نہیں۔

بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت آئندہ پیر تک ملتوی کر دی۔

Similar Posts