قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق یہ اقدامات وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف کی کفایت شعاری مہم کے تحت کیے گئے ہیں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق کفایت شعاری مہم کے تحت 70 فیصد سرکاری گاڑیاں بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ اراکین قومی اسمبلی کی 2 ماہ کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں 25 فیصد کٹوتی کی جائے گی۔
اس کے علاوہ پارلیمانی وفود کے بیرون ملک دوروں پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے افسران یا وہ افسران جن کی ماہانہ تنخواہ 3 لاکھ روپے یا اس سے زائد ہے، ان کی 2 دن کی تنخواہ قومی خزانے میں جمع کرائی جائے گی۔ سیکرٹریٹ میں تمام خریداری فوری طور پر بند کر دی گئی ہے جبکہ صرف ناگزیر روزمرہ ضروریات کے لیے محدود خریداری کی اجازت دی گئی ہے۔
قومی اسمبلی اور کمیٹیوں کے اجلاس غروب آفتاب سے پہلے شیڈول کیے جائیں گے جبکہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں 80 فیصد عملہ گھر سے ورچوئل ڈیوٹی سر انجام دے گا۔
کفایت شعاری کو یقینی بنانے کے لیے گھر سے کام کرنے والے 80 فیصد ملازمین کو اضافی الاؤنس بھی نہیں دیے جائیں گے۔
قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس ورچوئل یا آن لائن طریقے سے منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ قومی اسمبلی میں ہفتے میں 4 ورکنگ ڈیز ہوں گے۔ کفایت شعاری پالیسی کے تحت قائمہ کمیٹیوں کے اجلاسوں کو محدود رکھنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ بجلی کے استعمال میں 70 فیصد کمی کی جائے گی اور غیر ضروری لائٹس اور برقی آلات بند رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے کیفے ٹیریاز کے یوٹیلیٹی بلز میں بھی 70 فیصد بچت کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ روایتی اخراجات میں مزید کمی لانے کے لیے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں پیپر لیس ورکنگ اپنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔