آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کے معاملے پر بھارت کا منافقانہ رویہ عیاں

0 minutes, 0 seconds Read
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کے معاملے پر بھارت کا منافقانہ رویہ عیاں ہوگیا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بھارتی اور ایرانی وزرائے  خارجہ کے مابین گفتگو میں امریکہ کی ایران پر جارحیت  کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا، ایرانی موقف کے مطابق خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی اور درپیش خطرات کے پیچھے امریکی پالیسیوں کا کردار نمایاں ہے۔

اس ہی رابطے کے دوران بھارتی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے بھارت کو تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت بھی دی، ایران کے ایک بیرونی ذرائع نے اس قسم کے کسی باضابطہ معاہدے کی تصدیق نہیں کی، جس سے اس معاملے پر ابہام برقرار ہے، یہ صورتحال بھارت کی سفارتی پالیسی کے ایک متضاد پہلو کو بھی سامنے لاتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک طرف بھارت امریکا اور اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے جبکہ دوسری طرف اپنے مفادات کیلئے ایران کے امریکا مخالف بیانیے کا حامی نظر آتا ہے، ماضی میں امریکی دباؤ پر بھارت نے چابہار سے اپنی کمپنی واپس بلا لی تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کا بین الاقوامی گزرگاہ سے گزرنے کے لیے ایران سے اجازت مانگنا، اس کی خودمختاری کے دعوے کو کھوکھلا کرتی ہے، بھارت کی خارجہ پالیسی کے مسلسل بدلتے ہوئے موقف پر سوالات جنم لے رہے ہیں۔

Similar Posts