ایرانی میڈیا نے بھی ان کی شہادت کی تصدیق کر دی ہے جبکہ ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی ریجانی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے بھی ایک پوسٹ کی گئی ہے جس میں ان کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ، خدا کا بندہ خدا سے ملا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق تہران میں ایک خفیہ ٹھکانے پر اسرائیلی فضائیہ کے جنگی طیاروں نے علی لاریجانی کو نشانہ بنایا۔
واضح رہے کہ اسرائیلی حکام نے انہیں ایران کا ڈی فیکٹو لیڈر قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد عملی طور پر قیادت سنبھال چکے تھے، اسرائیل نے ان کی شہادت کو ایرانی حکومت کے خاتمے کے لیے اپنے منصوبے کا اہم حصہ قرار دیا تھا۔
علاوہ ازیں اسرائیل کے ایک اور علیحدہ حملے میں ایران کی بسیج فورس کے سربراہ غلام رضا سلیمانی کو بھی شہید کر دیا گیا، جو اندرونی سکیورٹی کے اہم ترین کمانڈرز میں شمار ہوتے تھے۔