افغانستان میں دہشت گردی کے ڈھانچے کے خلاف کارروائی پر بھارتی وزارت خارجہ کا گمراہ کن بیان مسترد

0 minutes, 0 seconds Read
دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں دہشت گردی کے ڈھانچے کے خلاف جاری اپنی کارروائیوں کے بارے میں بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بے بنیاد، گمراہ کن اور بلا جواز بیان کو مسترد کرتا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے بھارتی وزرات خارجہ کے بیان پر رد عمل میں کہا کہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی بھارتی سرپرستی اور خطے میں اس کے تاریخی تخریبی کردار کے تناظر میں یہ بیان محض بھارت کی کھلی منافقت اور دوہرے معیار کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ امر قابل ذکر ہے کہ یہ بیان ایسے ملک کی جانب سے سامنے آیا ہے جس کی قیادت داخلی سیاسی مفادات کے لیے اسلاموفوبیا کو ہوا دینے اور اپنی مسلم آبادی کے خلاف پرتشدد واقعات کے باوجود جواب دہی سے مبرا ہے، چند ہفتے قبل ہی اس کی قیادت نے ایک ایسے قابض فریق کی مکمل اور غیر مبہم حمایت کا اعلان کیا جو ہزاروں بے گناہ فلسطینیوں کے مسلسل قتل کا ذمہ دار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ نہایت مضحکہ خیز امر ہے کہ ایک ایسی ریاست، جس نے تاریخی طور پر بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے ہمسایہ ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچایا، انہی اصولوں کی پاسداری پر اظہارِخیال کرے۔

ترجمان نے کہا کہ ایسے بیانات اس حقیقت سے توجہ نہیں ہٹا سکتے کہ بھارت نے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں کشمیری عوام کے حق خودارادیت کو متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، دبایا ہے اور مسلسل انکار کر رہا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ وہ افغان سرزمین سے سرگرم دہشت گرد گروپس بشمول وہ گروہ جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں کے نظام کے تحت درج ہیں، کی حمایت اور سرپرستی سے باز رہے، اس ضمن میں بھارت کو پاکستان کی کامیاب انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں پر بے جا واویلا بند کرنا چاہیے۔

Similar Posts