ایران نے جنوبی صوبے بوشہر کے ساحل کے قریب واقع پارس گیس فیلڈ پر اسرائیلی حملے کے ردعمل میں سعودی عرب، یو اے ای اور قطر کی پانچ اہم توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔
برطانوی اخبار دی گارجین کے مطابق ایران کی پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر میں موجود متعدد توانائی مراکز کو آئندہ چند گھنٹوں میں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے ان اہداف میں سعودی عرب کی سامرف ریفائنری اور جُبیل پیٹروکیمیکل کمپلیکس، یو اے ای کا الغوس گیس فیلڈ، جب کہ قطر کے میسعید پیٹروکیمیکل کمپلیکس اور راس لفان ریفائنری کو شامل بتایا ہے۔
یہ دھمکی اس وقت سامنے آئی جب ایرانی گیس فیلڈ جنوبی پارس پر میزائل حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جو دنیا کے سب سے بڑے گیس ذخائر میں سے ایک ہے اور ایران اور قطر کے درمیان مشترکہ ہے۔
ایرانی وزارت پیٹرولیم کے مطابق حملے سے کچھ تنصیبات کو نقصان پہنچا، تاہم فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی اور بعد ازاں آگ پر قابو پا لیا گیا۔
اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ یہ حملہ اسرائیل نے امریکا کی منظوری سے کیا، جب کہ امریکی صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی گیس فیلڈ پر اسرائیلی حملے کا امریکا کو علم نہیں تھا تاہم انھوں نے کہا کہ اسرائیل نے مشرق وسطیٰ کی صورتِ حال پر غصے میں آ کر ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر حملہ کیا۔
برطانوی اخبارکا کہنا ہے کہ اس حملے کو خطے میں کشیدگی میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے قبل ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع میں توانائی کے شعبے کو نسبتاً محدود رکھا گیا تھا تاکہ عالمی منڈی میں قیمتوں کو کسی حد تک مستحکم رکھا جا سکے۔
دوسری جانب خلیجی توانائی تنصیبات پر حملوں اور جوابی دھمکیوں کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جب کہ آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے سپلائی چین پر بھی دباؤ ڈال دیا ہے۔
قطر کے وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے پارس گیس گیلڈ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے خطرناک اورغیر ذمہ دارانہ اقدام قرار دیا۔ قطر نے خلیجی توانائی تنصیبات پر حملوں کی بھی مذمت کی اور بیان میں کہا کہ ایرانی جارحیت تمام ریڈ لائنز عبور کر چکی ہے۔
بدھ کو قطر کی حکام نے راس لفان گیس فیسلٹی میں ایرانی بیلسٹک میزائل حملے کے بعد آگ لگنے کی اطلاع دی، قطری حکام کے مطابق راس الفان گیس کمپلیکس پر ایرانی بیلسٹک میزائل حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں گیس فیلڈ کے تین مختلف مقامات پر آگ بھڑک اٹھی۔
قطری وزارت خارجہ کے مطابق حملے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں اورعالمی توانائی کے تحفظ کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ اس سے نہ صرف خطے کے عوام بلکہ ماحول پر بھی سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ایران کی جانب سے خلیجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں اور ممکنہ جوابی کارروائیوں کے باعث خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، جس سے عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔