برصغیر میں فلمی موسیقی کے بانی تھے کھیم چندر پرکاش، آرسی بورال، بھائی چند، پنکج ملک، انل بسواس، ایس ڈی برمن، مدن موہن، ماسٹر غلام حیدر، خواجہ خورشید انور، رشید عطرے وغیرہ لیکن ان میں کھیم چند پرکاش کا نام سب سے پہلے آتا ہے۔ ان کی ترتیب دی ہوئی دھنیں سنیں تو ان کی صلاحیتوں اور ان کے زرخیز ذہن کی داد دینا پڑتی ہے۔ کھیم چندر پرکاش نے یوں تو بے شمار فلموں کی موسیقی ترتیب دی۔
یہ 12 دسمبر 1907جے پور کے شاہی محل میں پیدا ہوئے جہاں ان کے والد درباری موسیقار تھے۔ تقسیم سے پہلے راجے مہاراجے اور نوابین موسیقاروں کی بڑی آؤ بھگت کرتے تھے، انھیں رتبہ اور خطاب بھی دیتے تھے اور دل کھول کر تنخواہیں بھی دیا کرتے۔ کھیم چندر پرکاش نے فلم تان سین، شادی، چاندنی، کھلونا، ممتاز محل، آشا، ملاقات، سیندور، سماج کو بدل ڈالو، امید، پیاس، پردیسی، چراغ، گوری، شہنشاہ بابر، میرا گاؤں، ہالیڈے، دکھ سکھ، 1948 میں فلم ’’ضدی‘‘ کا سنگیت دیا جس میں لتا کی آواز میں یہ گانا بہت مقبول ہوا ’’چندا رے جارے جارے‘‘ تان سین فلم کے گانے جو سہگل اور خورشید نے گائے بہت مقبول ہوئے جیسے یہ گیت:
جگ مگ دیا جلاؤ … سہگل
گھٹا گھنگھور گھور مور مچائے شور…خورشید
میرے سجن آجا، آجا
فلم ’’ضدی‘‘ کا یہ گیت بھی بہت مقبول ہوا:
تجھے او بے وفا ہم زندگی کا آسرا سمجھے
سہگل کا گایا ہوا فلم تان سین کا یہ گیت بھی بہت مقبول ہوا:
بالم آئے بسو مورے من میں
سن 1935 سے 1950 تک کا زمانہ بلاشبہ کھیم چندر پرکاش کا زمانہ تھا، یوں تو انھوں نے بے شمار فلموں کا سنگیت دیا لیکن فلم ’’محل‘‘ کے سنگیت نے یکدم بے پناہ شہرت سے نوازا۔ آج بھی لوگ یوٹیوب پر پرانے گانے سنتے ہیں۔ یوٹیوب مجھے اسی لیے پسند ہے کہ اپنی پسند کا کوئی بھی گیت یا فلم اس پر دیکھی جا سکتی ہے۔ فلم ’’محل‘‘ کے تمام گانے سپر ہٹ ہوئے، خاص کر ان کا گایا ہوا یہ گیت:
آئے گا، آئے گا آنے والا
اس گیت سے لتا کو بھی بریک ملا اور وہ سنگیت کاروں کی نظروں میں آ گئیں، پھر لتا نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ ویسے تو لتا کو متعارف کروانے والے ماسٹر غلام حیدر تھے لیکن لازوال شہرت فلم ’’محل‘‘ کے گانے سے ملی۔ مزے کی بات یہ ہے کہ HMV کے ریکارڈ پرگلوکارہ کا نام ’’کامنی‘‘ لکھا ہوا ہے۔ یہ ریکارڈ میرے والد کے کلیکشن میں شامل تھا، بلکہ فلم ’’محل‘‘ کے تمام گانوں کے ریکارڈ جنھیں پرانے لوگ کالا توا کہتے تھے، ان کے پاس تھے۔ ایک گیت امیربائی کرناٹکی اور راج کماری کی آواز میں ہے، بڑی خوبصورت بندش ہے، دل چاہتا ہے بس سنتے رہو:
یہ رات پھر نہ آئے گی، جوانی بیت جائے گی
یہ گیت ایک رقص پر مبنی ہے لیکن یہ وہ دور تھا جب فلم کے پردے پر رقاصائیں اور گلوکارائیں، پوری آستین کا لباس اور سر پر ڈوپٹہ لیتی تھیں، فلم ’’محل‘‘ 1949 میں ریلیز ہوئی۔ یہ کمال امروہوی کی فلم تھی، اس لیے موسیقی تو اچھی ہونی ہی تھی۔ اس فلم میں کھیم چندر پرکاش نے دو گیت راج کماری کی آواز میں ریکارڈ کیے تھے جو آج بھی سننے والوں کا دل موہ لیتے ہیں۔ بڑی سحر انگیز آواز تھی راج کماری کی۔ گیت یہ تھے:
گھبرا کے جو ہم سر کو ٹکرائیں تو اچھا ہو
اس جینے میں سو دکھ ہیں مر جائیں تو اچھا ہو
اور دوسرا گیت یہ ہے:
میں وہ دلہن ہوں راس نہ آیا جسے سنگھار
ہوں وہ چمن کہ جس میں نہ آئی کبھی بہار
کھیم چندر پرکاش نے سب سے پہلے کشور کمار کو متعارف کرایا، دیوآنند پر ایک گیت پکچرائز کیا جسے کشور کمار نے بڑی خوبصورتی سے گایا، گیت یہ تھا:
مرنے کی دعائیں کیوں مانگو، جینے کی تمنا کون کرے
اب یہ دنیا ہو یا وہ دنیا اب خواہش دنیا کون کرے
کھیم چندر پرکاش نے سب سے پہلے مناڈے کو بھی متعارف کروایا۔ فلم تھی ’’چلتے چلتے‘‘ ۔ یہ فلم 1947 میں بنی تھی۔ مناڈے بہت جلد موسیقاروں کی نظروں میں آگئے۔ تان سین 1943 میں بنی تھی، اس فلم کا سنگیت بہت جاذب اور پراثر تھا۔
یہ کیسے موسیقار تھے، کیسے گلوکار تھے جن کا ذہن اتنا زرخیز تھا کہ جس پر زمانے کا اثر نہ تھا، پھر آہستہ آہستہ فلمی موسیقی میں بدلاؤ آیا، بٹوارے کے بعد لاہور سے موسیقار بمبئی (ممبئی) چلے گئے اور وہاں سے صرف ماسٹر غلام حیدر پاکستان واپس آئے۔ ممبئی فلموں کا مرکز تھا اور ہے، تقسیم نے بمبئی کی فلمی دنیا پہ زیادہ اثر نہ ڈالا۔ اسی لیے وہاں کام ہوتا رہا اور فلمیں بنتی رہیں۔ بٹوارے کے بعد جن موسیقاروں کے نام سامنے آئے ان میں اوپی نیئر، شنکر جے کشن، آر ڈی برمن، نوشاد علی وغیرہ۔ چلیں ان موسیقاروں نے تو بہت کام کیا۔ لاہور میں ماسٹر غلام حیدر، خواجہ خورشید انور، رشید عطرے، سلیم اقبال، ناشاد اور نثار بزمی نے بڑی اچھی دھنیں ترتیب دیں۔
لیکن آج موسیقی کہیں کھو گئی ہے، انڈیا میں اے آر رحمان بڑا اچھا کام کر رہے ہیں۔ ان کی فلموں میں نیم کلاسیکل موسیقی ہوتی ہے۔ خاص کر فلم ’’تال‘‘ اس کے علاوہ دوسرے موسیقار ویسا کام نہیں کر رہے۔ لکشمی لال پیارے لال نے بھی اچھی دھنیں ترتیب دی ہیں، لیکن اب حالات بدل چکے ہیں، اب نہ وہ اساتذہ ہیں جنھوں نے لازوال دھنیں ترتیب دیں نہ وہ موسیقار رہے جو ایک ایک گیت پر کئی کئی ماہ ریہرسل کرواتے تھے۔ سینما کی رات جا چکی ہے، ابتدائی موسیقی سے ہٹ کر فلمی موسیقاروں اور فلم میکرز نے راک اینڈ رول میوزک دیا جو جلد ہی اپنی موت آپ مرگیا، پاکستان میں نہ سینما ہے نہ موسیقی۔ وہ لوگ جنھوں نے محل، پاکیزہ، تان سین، بیجوباورا، مغل اعظم، پردیسی اور بہت سی فلمیں لازوال دور کی دیکھی ہوں، انھیں نقصان کا زیادہ اندازہ ہوتا ہے۔ کسی حد تک پاکستان میں نثار بزمی نے موسیقی کو سنبھالا دیا، لیکن اب ہر طرف سناٹا ہے۔ رونا لیلیٰ کی آواز میں نثار بزمی نے بڑے خوبصورت گیت گوائے۔ خاص کر فلم انجمن، ثریا بھوپالی، تہذیب، امراؤ جان وغیرہ۔ لیکن اب ہر طرف سناٹا ہے، نہ ویسے فلم ساز رہے نہ گلوکار نہ موسیقار۔ موسیقی کا سنہرا دور جب تک تھا جب اوپی نیئر، انل بسواس، مدن موہن، نثار بزمی، خواجہ خورشید انور اور جی اے چشتی تھے۔کھیم چندر پرکاش صرف اڑتالیس سال کی عمر میں 1950 میں وفات پا گئے ان کی موت کے بعد ان کے خاندان کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کسی نے ان کی مدد نہیں کی۔ کھیم چندر پرکاش اپنے پیچھے صرف ایک حویلی چھوڑ گئے تھے جسے ان کے پریوار نے گروی رکھ کر کام چلایا، پھر اس حویلی کو بیچ دیا، لیکن نہایت کسمپرسی میں زندگی گزاری۔ یہ وہ دور تھا جب اداکار موسیقار، مستقبل کے لیے کچھ نہیں سوچتے تھے، یہ نہیں سوچتے تھے کہ کل جب شہرت کا سورج ڈھل جائے گا تب کیا کریں گے؟ آج کا فنکار زیادہ سمجھدار ہے۔ وہ آنے والے وقت کے لیے سرمایہ کاری کرتا ہے۔ کوئی ہوٹل بنا لیتا ہے کوئی فارم ہاؤس اور کوئی دوسرا بزنس۔ یہی وجہ ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے فنکار ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اچھی زندگی گزارتے دیکھے گئے ہیں۔