آبنائے ہرمز کی بندش کے ذمہ دار امریکا اور اسرائیل ہیں: عباس عراقچی

0 minutes, 0 seconds Read

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا اور اسرائیل کی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایران کسی دباؤ یا خوف کا شکار نہیں ہوگا، تہران کا مؤقف ہے کہ اگر ایران کی توانائی تنصیبات پر حملہ کیا گیا تو آبنائے ہرمز کو مکمل بند کر دیا جائے گا اور امریکا کے شراکت دار ممالک کی توانائی تنصیبات بھی نشانہ بن سکتی ہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا اور اسرائیل کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر دی جانے والی دھمکیوں سے ایران ہرگز مرعوب نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس اہم آبی گزرگاہ میں جہازوں کی آمدورفت میں پیدا ہونے والی رکاوٹ اس جاری جنگ کا نتیجہ ہے جس کا آغاز امریکا اور اسرائیل نے کیا۔

عباس عراقچی کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت میں رکاوٹ کی ذمہ داری ایران پر عائد نہیں ہوتی بلکہ اس کے ذمہ دار وہی ممالک ہیں جو خطے میں کشیدگی بڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے امریکا اور اسرائیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بحری راستوں کی صورتحال کا الزام ایران پر ڈالنا درست نہیں ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ نہ کوئی انشورنس کمپنی اور نہ ہی ایران مزید دھمکیوں سے متاثر ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنے مؤقف پر قائم ہے اور دباؤ یا دھمکیوں کے باوجود اپنی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کرے گا۔

ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں بھی کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی کشیدگی اور خطرناک صورت حال کی براہِ راست ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوتی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کو متاثر کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز ایران کو 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کھولنے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے دھمکی دی تھی کہ بصورت دیگر ایران کے پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز نہ کھولی تو سخت کارروائی ہوگی جس پر ایران نے امریکی صدر کو جواب میں کہا اگر ٹرمپ نے ایسا کیا تو مشرق وسطیٰ میں امریکا کے توانائی انفرا اسٹرکچر کو نشانہ بنایا جائے گا۔

بعدازاں برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا، جس میں مشرق وسطیٰ کی صورت حال اور عالمی بحری تجارت کی بحالی پر تبادلہ خیال کیا۔

گفتگو کے دوران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر بھی بات ہوئی اور دونوں نے اتفاق کیا کہ اس آبی گزرگاہ کا کھلنا عالمی توانائی منڈی کے استحکام کے لیے ضروری ہے۔

امریکی صدر کی دھمکیوں کے جواب میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے بھی کہا دھمکیاں اور دہشت گردی ہماری یک جہتی کو مزید مضبوط کرتی ہیں ہم جنگ کے میدان میں بے بنیاد دھمکیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔

اس سے قبل پاسدارانِ انقلاب نے بھی خبر دار کیا کہ اگر ایران کی توانائی تنصیبات پر حملہ کیا گیا تو آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کیا جا سکتا ہے اور امریکا کے شراکت دار اداروں سمیت ان ممالک کی توانائی تنصیبات بھی نشانہ بن سکتی ہیں جہاں امریکی اڈے موجود ہیں۔

Similar Posts