عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ترک صدر نے کہا کہ علاقائی امن اور انسانیت کی خاطر نیتن یاہو کی قیادت میں قتل عام کے نیٹ ورک کو فوری طور پر روکنا ہوگا۔ جس کے لیے ہر ملک کو دلیرانہ اور فعال موقف اختیار کرنا چاہیے۔
صدر طیب اردوان نے کہا کہ ترکیہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے دوران نہایت محتاط اور دانشمندانہ حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے۔ برادرانہ اور ہمسایہ تعلقات سے تعلقات میں دراڑ نہیں آنے دیں گے۔
ترک صدر نے اپنی پالیسی بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ بساط ہمارے لیے بچھائی گئی ہے لیکن ہم اپنے لیے بچھائے گئے جال میں نہیں پھنسیں گے۔ ہم نے آگ کے اس دائرے سے دور رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ امریکا اسرائیل کی ایران جنگ نے خطے کو لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ جنگ سے توانائی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ جنگ کے باعث ترک معیشت کو ہونے والے نقصان کے سدباب کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔