ناسا کی جانب سے جاری تصاویر میں ایک ایسا ڈھانچہ دکھائی دیا جو بظاہر مصر کے اہرامِ گیزا جیسا محسوس ہوتا ہے، اور دعویٰ کیا گیا کہ اس کا حجم بھی تقریباً اسی کے برابر ہے۔
اس انکشاف نے ایک بار پھر یہ سوال چھیڑ دیا کہ کیا مریخ پر کبھی کسی قدیم تہذیب کا وجود تھا؟
یہ پراسرار ساخت مریخ کے ایک وسیع کینین سسٹم کینڈور چاسما میں دیکھی گئی، جو وادی ویلز مارینیرس کا حصہ ہے، ایک ایسا خطہ جو مریخ کے تقریباً ایک چوتھائی حصے تک پھیلا ہوا ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ان تصاویر نے بحث کو مزید ہوا دی، خاص طور پر جب کچھ ماہرین نے اسے ممکنہ طور پر مصنوعی ساخت قرار دیا۔ فلم ساز برائن ڈوڈز نے بھی اس ڈھانچے کو مصر کے عظیم اہرام کے برابر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دریافت کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔
ماضی میں بھی مریخ پر اہرام نما ساختوں کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔ 1970 کی دہائی میں سائنسدانوں نے پہلی بار ایسے اشکال کی نشاندہی کی تھی، جبکہ 2001 میں ایک اور محقق نے اس مخصوص ڈھانچے کو نمایاں کیا۔ بعض افراد نے تو یہاں تک دعویٰ کیا کہ یہ کسی دوسری مخلوق کی نشانی ہوسکتی ہے، اور حتیٰ کہ کچھ خفیہ دستاویزات میں بھی مریخ پر اہراموں کا ذکر کیا گیا۔
تاہم، جب اس پراسرار ’’اہرام‘‘ کو جدید سائنسی آلات اور ہائی ریزولوشن تصاویر کے ذریعے تفصیل سے دیکھا گیا تو حقیقت بالکل مختلف نکلی۔ ماہرین کے مطابق یہ کوئی مصنوعی ڈھانچہ نہیں بلکہ قدرتی عمل کا نتیجہ ہے۔
مریخ کی سطح پر اربوں سال سے جاری کٹاؤ، ہواؤں کی شدت، لینڈ سلائیڈنگ اور دیگر جغرافیائی عوامل نے اس شکل کو جنم دیا۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی ساختیں دراصل ’’پازیٹو ریلیف نوبز‘‘ کہلاتی ہیں، یعنی وہ چٹانی حصے جو اردگرد کی مٹی ختم ہونے کے بعد باقی رہ جاتے ہیں۔ اگرچہ یہ ڈھانچہ پہلی نظر میں باقاعدہ اہرام جیسا دکھائی دیتا ہے، لیکن قریب سے دیکھنے پر اس کی سطح غیر ہموار، کنارے بے ترتیب اور ساخت غیر متوازن نظر آتی ہے، جو کسی بھی انسان ساختہ عمارت کے برعکس ہے۔
ماہرین نے اس دلچسپ غلط فہمی کی ایک اور وجہ بھی بتائی، جسے ’’پیریڈولیا‘‘ کہا جاتا ہے، یعنی انسانی دماغ کا فطری رجحان کہ وہ بے ترتیب اشکال میں مانوس چیزیں تلاش کرتا ہے، جیسے بادلوں میں چہرے یا پہاڑوں میں عمارتیں۔
یوں مریخ پر ’’اہرام‘‘ کی یہ سنسنی خیز کہانی آخرکار ایک قدرتی حقیقت نکلی، مگر اس نے ایک بار پھر یہ ثابت کردیا کہ خلا اب بھی رازوں سے بھرا ہوا ہے۔ مریخ اپنی حیران کن جغرافیائی ساخت کے ساتھ انسان کو نہ صرف چونکاتا ہے بلکہ علم اور جستجو کی نئی راہیں بھی کھولتا ہے۔