اسرائیلی خبر رساں ادارے کے مطابق آج وائٹ ہاؤس ترجمان نے بھی معمول کی بریفنگ میں بھی ایران کے تحفے سے متعلق پوچھے گئے سوال کا جواب دینے سے گریز کیا تھا۔
تاہم اب صدر ٹرمپ کے ایران کے تحفے سے متعلق بیان کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔ یہ تحفہ دراصل آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کو گزرنے کی اجازت تھا۔ جن میں بھاری مالیت کا تیل تھا۔
ایک سینئر عرب سفارتکار اور امریکی اہلکار نے اسرائیلی میڈیا کو بتایا کہ حالیہ دنوں میں ایران نے متعدد فیول ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے محفوظ راستہ فراہم کیا جسے ٹرمپ نے بڑا تحفہ قرار دیا۔
یاد رہے کہ امریکا نے حالیہ دنوں میں ثالثوں کے ذریعے ایران سے رابطے کیے جس کا مقصد یہ جانچنا تھا کہ کیا جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی راستہ ممکن ہے اور امریکا نے ایران سے نیک نیتی کے اشارے کا مطالبہ کیا۔
کہا جا رہا ہے کہ اس کے جواب میں ایران نے ایسے چند ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی جو امریکا یا اسرائیل سے وابستہ نہیں تھے تاکہ عالمی منڈیوں میں بے چینی کم کی جا سکے۔