رپورٹس کے مطابق اسرائیلی سیاسی شخصیت اوری اسٹینر نے تجویز پیش کی کہ یونان کے تقریباً 40 غیر آباد جزائر خرید کر انہیں اسرائیلی شہریوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اس تجویز کا مقصد ممکنہ جنگی صورتحال میں شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا بتایا گیا ہے۔
اسٹینر نے دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس ہزاروں بیلسٹک میزائل موجود ہیں جو اسرائیل کو نشانہ بنا سکتے ہیں، اس لیے متبادل حفاظتی منصوبہ ضروری ہے۔ انہوں نے اس تصور کو ایک ’متبادل آئرن ڈوم‘ قرار دیا۔
تاہم اس تجویز کو جلد ہی مسترد کر دیا گیا۔ جیوئش نیشنل فنڈ کی ذیلی کمپنی ہمنوتا کے بورڈ ممبران نے اس منصوبے کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ادارے کے بنیادی مقاصد کے خلاف ہے۔
رپورٹس کے مطابق بورڈ نے واضح کیا کہ ادارہ اسرائیل یا فلسطینی علاقوں سے باہر زمین خریدنے کا مجاز نہیں، اس لیے یونان کے جزائر خریدنے کی تجویز قابل عمل نہیں ہے۔
یاد رہے کہ خطے میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث مختلف غیر معمولی تجاویز اور حکمت عملیاں سامنے آ رہی ہیں، تاہم اس تجویز نے اپنی نوعیت کے باعث خاصی توجہ حاصل کی ہے۔