سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس سینیٹر فیصل سلیم کی زیرصدارت ہوا، جس میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری بھی موجود تھے۔
اجلاس کا آغاز ہوتے ہی اسلام آباد میٹرو بس سروس بل 2026 اور اسلام آباد رئیل اسٹیٹ ریگولیشن ترمیمی بل 2026 پر بحث کو موخر کردیا گیا۔
دورانِ اجلاس پارلیمنٹ لاجز میں چوہوں اور دیمک کی شکایات کرتے ہوئے سینیٹرز پھٹ پڑے۔ سینیٹر وقار احمد نے پارلیمنٹ لاجز کی حالت زار کا معاملہ اٹھایا۔ اس موقع پر سینیٹر وقار مہدی نے کہا کہ پارلیمنٹ لاجز میں صفائی کی حالت بہت خراب ہے۔ سی ڈی اے کے بہت زیادہ ملازمین کاغذوں میں موجود ہیں۔ لفٹوں میں کوئی ملازم نہیں ہوتا، چھت کی بری صورتحال ہے۔
سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ چوہے ہی چوہے ہیں، دیمک اتنی زیادہ ہے جو کپڑوں کو کھاجاتی ہے۔ صفائی اور سیکیورٹی کی صورتحال خراب ہے۔ صحافی بڑا لکھتے ہیں کہ پارلیمنٹیرینز بڑی مہنگی جگہ پر رہتے ہیں۔ ان لوگوں کوکہتی ہوں آکر دیکھیں لاجز کی کیا صورتحال ہے۔
اس موقع پر چیئرمین سی ڈی اے نے جواب دیتے ہوئے بتایا کہ پارلیمنٹ لاجز کی الاٹمنٹ سی ڈی اے نہیں کرتی۔ سی ڈی اے کے فنڈز سے لاجز کی تزئین و آرائش کا کام نہیں ہوتا۔ انہوں نے پارلیمنٹ لاجز کی سروسز کو آؤٹ سورس کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ ماڈرن دنیا میں زیادہ تر چیزیں آؤٹ سورس ہورہی ہیں، ان کو بھی کردیں۔
وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کمیٹی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ غیرمعیاری کام ہوئے ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ پارلیمنٹ لاجز کے فنڈز میں خورد برد بھی ہوئی ہوگی۔ نئے پارلیمنٹ لاجز کا منصوبہ التوا کا شکار تھا۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے ذاتی دلچسپی لے کر اس معاملے کو حل کروایا۔
انہوں نے بتایا کہ ایم این اے ہوسٹل میں غیرقانونی لوگ رہ رہے ہیں، جنہوں نے لاکھوں روپے کرایے کی مد میں دینے ہیں۔غیرقانونی طور پر رہنے والے زیادہ تر لوگ ایک ہی پارٹی سے ہیں۔
چیئرمین کمیٹی نے ان غیرقانونی لوگوں کی فہرست پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ میں میڈیا کو فراہم کروں گا۔ سینیٹر عمر فاروق نے کہا کہ اگر ہم ان لوگوں کو نہیں نکال سکتے تو پھر کیا ہم نے ملک چلانا ہے؟۔
اجلاس کے دوران سینیٹر وقار مہدی کی جانب سے این سی سی آئی اے کی کارکردگی پر سوالات بھی اٹھائے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ کوئی شخص میرا نام لے کر لوگوں کو کالز کررہا ہے۔ 6ماہ سے درخواست دی ہوئی ہے، این سی سی آئی اے کراچی والے کوئی کام نہیں کررہے۔