اسرائیل کے شمالی علاقوں کے مقامی کونسل سربراہان کا کہنا ہے کہ حکومت شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے، جس کے باعث عوام عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسلسل حملوں اور جوابی کارروائیوں کے نتیجے میں علاقے میں خوف و ہراس پھیل چکا ہے۔
شمالی اسرائیلی شہر مارگالیوت کے میئر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جذباتی انداز میں کہا کہ حزب اللہ کے حملوں سے شہر میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔
انہوں نے روتے ہوئے کہا کہ ’ہر چیز تباہ ہو چکی ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ کوئی بھی ملک اسرائیل کی حمایت کے لیے تیار نظر نہیں آتا۔‘
https://www.facebook.com/trtworld/videos/eitan-davidi-head-of-the-local-council-of-margaliot-settlements-in-northern-isra/972472508451384/
انہوں نے مزید کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اسرائیل نے اپنی سکیورٹی لبنان کے حوالے کر دی ہو، جبکہ مقامی آبادی خود کو تنہا محسوس کر رہی ہے اور ریاست ان کے ساتھ کھڑی دکھائی نہیں دیتی۔
اسی طرح کیرت شمونہ کے میئر نے بھی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ شہر تیزی سے خالی ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق دو تہائی شہری اپنے گھر چھوڑ چکے ہیں اور اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو مزید لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو جائیں گے۔
ماہرین کے مطابق شمالی اسرائیل میں بڑھتی ہوئی بے چینی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے، جبکہ جاری کشیدگی نے شہری زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔