ایران کے صدر مسعود پزیشکیان نے خلیج تعاون کونسل کے امریکا سے کیے گئے اس مطالبے پر سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان کے ذریعے سخت ردعمل دیا ہے۔
ایرانی صدر نے خطے کے پڑوسی ممالک کو سخت پیغام دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر آپ ترقی اور سلامتی چاہتے ہیں تو جنگ میں دشمنوں کو اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔
صدر مسعود پزیشکیان نے مزید کہا کہ جارحیت پر یقین نہیں رکھتے لیکن آپ کی سرزمین سے ایران کے انفراسٹریکچر یا معاشی مراکز کو نشانہ بنایا گیا تو اس کا بھرپور اور سخت جواب دیا جائے گا۔
یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تھا جس میں آیت اللہ خامنہ ای سمیت وزیر دفاع، آرمی چیف، پاسداران انقلاب، مشیر قومی سلامتی اور آرمی چیف شہید ہوگئے تھے۔
We have said many times that Iran doesn’t carry out preemptive attacks, but we will retaliate strongly if our infrastructure or economic centers are targeted.
To the countries of the region:
If you want development and security, don’t let our enemies run the war from your lands.
— Masoud Pezeshkian (@drpezeshkian) March 28, 2026
اس حملے کے بعد تاحال اسرائیل اور امریکا نے ایران پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں جس میں اہم عسکری اور سیاسی شخصیات کو نشانہ بنایا گیا۔ متعدد شہری بھی جاں بحق ہوئے اور انفرااسٹریکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
جس کے جواب میں ایران نے خلیجی ممالک میں واقع امریکی تنصیبات، فوجی اڈّوں اور مفادات کو مسلسل نشانہ بنا رہا ہے۔ ان میں تیل و گیس کے مراکز بھی شامل ہیں اور یہی وجہ ہے کہ خلیج تعاون کونسل نے امریکا سے مدد طلب کی ہے۔
حال ہی میں سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر ایران کے حملے میں کم از کم 15 امریکی فوجیوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔