خبر رساں اداروں اے ایف پی اور رائٹرز کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے جنوبی لبنان کے علاقے میں پریس کی گاڑی کو نشانہ بنایا جس میں عربی چینل المیادین کی خاتون صحافی فاطمہ فتونی اور المنار ٹی وی کے سینئر رپورٹر علی شعیب شہید ہوگئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پریس کی اس گاڑی میں دیگر افراد بھی موجود تھے جن میں خاتون صحافی فاطمہ فتونی کے بھائی بھی شامل تھے۔
المیادین کے مطابق اسرائیلی فورسز نے گاڑی کو دانستہ طور پر 4 گائیڈڈ میزائلوں سے نشانہ بنایا اور جب امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچیں تو انھیں بھی نشانہ بنایا گیا جس میں ایک پیرامیڈک بھی جاں بحق ہوگیا۔
Footage captures the moment “Israel” deliberately targeted #AlMayadeen’s correspondent Fatima Ftouni, while on the road in a vehicle clearly marked “PRESS”.
Fatima was martyred alongside her brother, as well as fellow Al-Manar Journalist Ali Sheaib, while they were covering the… pic.twitter.com/NVJ32CiqXn
— Al Mayadeen English (@MayadeenEnglish) March 28, 2026
لبنان کے صدر جوزف عون نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین اور جنگی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کو عالمی قوانین کے تحت تحفظ حاصل ہے۔ انھیں نشانہ بنانا سنگین جرم ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے صحافی علی شعیب کے فضائی حملے میں مارے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ حزب اللہ کے رضوان فورس کے انٹیلی جنس یونٹ سے وابستہ تھے اور اسرائیلی فوجی تنصیبات کی معلومات فراہم کرتے تھے۔
تاہم لبنان اور میڈیا تنظیموں نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے صحافت پر حملہ قرار دیا ہے۔
یاد رہے کہ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (CPJ) کے مطابق گزشتہ برسں دنیا بھر میں ہلاک ہونے والے صحافیوں کی بڑی تعداد اسرائیلی حملوں میں جاں بحق ہوئی۔