امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایرانی تیل پر قبضہ کرنا میرا پسندیدہ آپشن ہے۔
ٹرمپ کے مطابق امریکہ ایران کے تیل پر کنٹرول حاصل کر سکتا ہے اور خارگ جزیرہ جیسے اہم برآمدی مرکز کو بہت آسانی سے اپنے قبضے میں لے سکتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران اس مقام پر مؤثر دفاع نہیں رکھتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے پاکستانی پرچم بردار آئل ٹینکرز کی تعداد جنہیں ایران نے اجازت دی اب بڑھا کر 20 کر دی گئی ہے جو خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال کی نشاندہی کرتی ہے۔
دوسری جانب امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ ایران کے افزودہ یورینیم ذخائر پر قبضے کے لیے ایک براہ راست فوجی آپریشن پر بھی غور کر رہے ہیں۔
یہ حساس ذخائر اصفہان اور نطنز جیسے اہم مقامات پر موجود ہیں جنہیں حاصل کرنے کے لیے امریکی افواج کو کئی دنوں تک ایرانی سرزمین پر موجود رہنا پڑ سکتا ہے۔
تاہم امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ پس پردہ سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں اور ثالثوں کے ذریعے ایران سے بات چیت میں پیش رفت ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق ایک معاہدہ جلد ممکن ہو سکتا ہے لیکن ساتھ ہی فوجی آپشن بھی زیر غور ہے۔