کراچی میں چند گھنٹوں کے دوران 2 مسخ شدہ لاشیں برآمد

0 minutes, 0 seconds Read
شہر قائد کے مختلف علاقوں سے چند روز پرانی دو مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئیں جن میں سے ایک ہاتھ پاؤں بندھی ہوئی تھی۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے بنارس پُل کے قریب ندی سے ایک شخص کی زنجیروں سے ہاتھ  اور پاؤں بندھی جھلسی ہوئی چند روز پرانی لاش ملی۔

اطلاع ملنے پر پولیس نے موقع پر پہنچ کر جائے وقوعہ سے شواہد حاصل کرنے کے بعد مقتول کی لاش کو ضابطے کی کارروائی کے لیے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا۔

ایس ایچ او سائٹ اے انسپکٹر شبیر خٹک نے بتایا کہ ندی سے ملنے والی ڈوبی ہوئی کسی اور علاقے سے بہتے ہوئے مذکورہ مقام تک پہنچی ہے جبکہ فوری طور پر مقتول کی شناخت نہیں ہو سکی۔

انہوں نے بتایا کہ لاش 3 سے 4 دن پرانی بتائی جاتی ہے اور پانی میں رہنے کی وجہ سے وہ مسخ ہوگئی ہے جبکہ پولیس نے تلاش ایپ کی مدد سے اس کی شناخت کے حوالے سے کوششیں کی ہیں لیکن کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔

پولیس کے مطابق مقتول کی عمر 35 سال کے قریب بتائی جاتی ہے جو کہ جھلسی ہوئی اور اس کے ہاتھ اور پاؤں زنجیروں سے باندھے ہوئے ہیں تاہم پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد وجہ موت کا تعین ہو سکے گا۔

ورثا کی تلاش کیلیے لاش کو سردخانے میں رکھوا دیا گیا ہے۔

دوسری جانب شرافی گوٹھ کے علاقے میں زیر تعمیر مکان کے زیر زمین پانی کے ٹینک سے ایک شخص کی کئی روز پرانی مسخ شدہ لاش ملی جس کی اطلاع پر پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاش ضابطے کی کارروائی کے لیے جناح اسپتال منتقل کیا۔

اس حوالے سے ایس ایچ او شرافی گوٹھ انسپکٹر امتیاز نیازی نے بتایا کہ کورنگی مرتضیٰ چورنگی کے قریب حسین شہید سوسائٹی میں زیر تعمیر گھر کے زیر زمین پانی کے ٹینک سے تعفن اٹھنے پر مکینوں نے پولیس کو اطلاع دی تھی۔

پولیس نے موقع پر پہنچ کر ایدھی کے رضا کاروں کی مدد سے لاش نکال کر اسپتال پہنچائی، فوری طور پر متوفی کی شناخت نہیں ہو سکی تاہم عمر 40 سال کے قریب بتائی جاتی ہے۔

پولیس نے بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق لاش 15 روز سے زائد پرانی معلوم ہوتی ہے تاہم پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی وجہ موت کا تعین کیا جا سکے گا۔

پولیس نے ضابطے کی کارروائی کے بعد لاش تلاش ورثا کے لیے سر خانے میں رکھوا دی ہے اور اس حوالے سے مزید تفتیش کا عمل جاری ہے۔

 

Similar Posts