آبنائے ہرمز کو ہر صورت کھولا جائے گا، ایران کی رضا مندی ہو یا نہ ہو: روبیو

0 minutes, 0 seconds Read

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران جنگ کے بعد آبنائے ہرمز ہر صورت کھولی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے لیکن ایران کو اپنے پروگرام ختم کرنا ہوں گے۔

قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو میں مارکو روبیو نے بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان کچھ فریقین کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے اور صدر ٹرمپ ہمیشہ مذاکرات کے ذریعے حل کو ترجیح دیتے ہیں، جو پہلے بھی ممکن تھا۔

آبنائے ہرمز کے حوالے سے روبیو نے واضح کیا کہ امریکی فوجی کارروائی کے اختتام کے بعد یہ آبی راستہ ہر صورت دوبارہ کھولا جائے گا، چاہے ایران کی رضامندی ہو یا بین الاقوامی فوجی اتحاد کے ذریعے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران بعد میں اسے بند کرنے کی کوشش کرے تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔

روبیو نے ایران پر تنقید کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ حکومت اپنے وسائل حزب اللہ، حماس اور عراق کی شیعہ گروہوں کی حمایت پر صرف کر رہی ہے اور پڑوسی ممالک کو دھمکانے میں مصروف ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے اور خطرناک ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انہوں نے ایران سے کہا کہ اپنا جوہری، ڈرون اور بیلسٹک میزائل پروگرام ختم کرے، کیونکہ یہ خطے اور دنیا کے لیے خطرہ ہیں۔ روبیو نے عندیہ دیا کہ واشنگٹن ایران میں قیادت کی تبدیلی کو ایک ممکنہ آپشن کے طور پر دیکھتا ہے، لیکن اصل مسئلہ حکومت کی پالیسیز ہیں، عوام نہیں۔

روبیو نے زور دیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہمیشہ سفارت کاری کو ترجیح دیتے ہیں اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ رابطے جاری ہیں، اگرچہ ایران ان کا انکار کرتا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے مختصر فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کا مقصد صرف خلیجی ممالک کو نشانہ بنانا ہے، اور امریکا یہ ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔ روبیو نے کہا کہ امریکا کے اہداف واضح ہیں اور یہ مہینوں نہیں بلکہ چند ہفتوں میں حاصل کیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ ایران جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی تیل منڈی شدید متاثر ہوئی ہے، جب کہ خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

Similar Posts