عدالت نے اپنے فیصلے میں میشا شفیع پر 50 لاکھ روپے ہرجانہ بھی عائد کر دیا ہے۔
یہ مقدمہ اُس وقت سامنے آیا تھا جب میشا شفیع نے علی ظفر پر ہراساں کرنے کے الزامات عائد کیے تھے، جس کے جواب میں علی ظفر نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے ہتکِ عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا۔ اب سیشن عدالت لاہور نے اس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے گلوکار کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔
اس سے قبل لاہور ہائی کورٹ بھی اس معاملے میں اہم ریمارکس دے چکی ہے۔ عدالتِ عالیہ نے میشا شفیع کی جانب سے سوشل میڈیا پر بیان دینے سے متعلق عائد پابندی کو برقرار رکھا تھا اور اسے ختم کرنے کی درخواست مسترد کردی تھی۔ جسٹس احمد ندیم ارشد کی جانب سے جاری تفصیلی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ اظہارِ رائے بنیادی حق ضرور ہے، لیکن اسے کسی کی عزت اور وقار کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
عدالتی فیصلے کے بعد یہ کیس ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے، اور سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔