امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ ‘ایران کی نئی حکومت کے صدر اپنے پیش رؤں کے مقابلے میں کم شدت پسند اور کہیں زیادہ ذہین ہے اور اب امریکا سے جنگ بندی کی درخواست کی ہے’۔
انہوں نے کہا کہ ‘ہم اس پر اس وقت غور کریں گے جب آبنائے ہرمز کھل جاتی ہے، فری اور محفوظ ہو، اس وقت تک ہم ایران کو مکمل طور پر تہس نہس کر رہے ہیں یا جیسے وہ کہتے ہیں پتھر کے دور میں بھیج دیں گے’۔
یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای، پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز اور دیگر اہم شخصیات اور شہری شہید ہوئے جبکہ ایران نے جوابی کارروائی میں مشرق وسطیٰ میں قائم امریکی فوجی بیسز اور اسرائیل پر میزئل اور ڈرونز فائر کیے، جس کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے گزشتہ روز یورپی کونسل کے صدر انٹونیو کوسٹا سے ٹیلی فونک گفتگو میں کہا تھا کہ اگر امریکا اور ایران کی جانب سے مستقبل میں دوبارہ حملے نہ کرنے کی مضبوط ضمانت دیں تو کارروائیاں روکنے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا تھا کہ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورت حال کو معمول پر لانے کا واحد حل یہ ہے کہ حملہ آور اپنی جارحانہ سرگرمیاں بند کریں، ہم نے کبھی کسی مرحلے پر کشیدگی یا جنگ کا آغاز نہیں کیا اور اگر مطلوبہ شرائط پوری ہو جائیں، خاص طور پر مستقبل میں حملے کی روک تھام کے لیے ضروری ضمانتیں، تو ہمارے پاس اس جنگ کو ختم کرنے کا عزم موجود ہے۔
ایرانی صدر نے کہا تھا کہ ایران اپنے ہمسایہ ممالک کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے اور کبھی بھی انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کی، تاہم ان ممالک میں موجود امریکی اڈوں پر حملہ کرنے کے سوا کوئی آپشن باقی نہیں ہے۔