ان حالات میں 30جون تک پاکستان کو تیل کی درآمدات میں مزید کئی ارب ڈالر خرچ کرنا ہوں گے۔ حکومت نے تیل کی عالمی قیمت میں اضافے کے پیش نظر 55 روپے فی لیٹر پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کیا اس کے بعد کئی مواقعے پر قیمت میں اضافے کی سفارش کی گئی لیکن حکومت کی طرف سے غریبوں کو ریلیف فراہم کرنے کی پالیسی کے تحت اضافہ نہیں کیاگیا، مزید اضافے کی توقع اپنی جگہ موجود ہے لیکن کیے گئے اضافے کے باعث ملک بھر میں ٹرانسپورٹ کرایوں میں 20 سے 30 فیصد اضافہ دیکھاگیا۔
خوراک کی قیمتوں میں تیز رفتار اضافہ ہو رہا ہے۔ ادویات کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ مکانات کے کرائے بڑھ گئے اور یوں ایک جنگ نے جو کہ امریکا اور ایران کے بیچ لڑی جا رہی ہے اس نے بغیر گولی چلائے پاکستان کے غریب عوام کی جیبوں پر حملہ کردیا ہے، اسی دوران غیر ملکی پروازیں متاثر ہورہی ہیں۔ فضائی راستے غیر محفوظ ہوکر رہ گئے ہیں۔ ٹکٹوں کی قیمتیں کہیں دگنی بھی ہوگئی ہیں، ہزاروں ٹریول ایجنٹس بیروزگاری، کاروبار کے مندہ ہونے کے باعث شدید نقصان کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں اور یہ عمل ٹریول ایجنسی کی سانس روکنے کے مترادف ہے۔
ادھر لاکھوں پاکستانی جو خلیجی ممالک میں کام کرتے ہیں اور سالانہ اربوں ڈالر ترسیلات زر بھیجتے ہیں جنگ کے مزید طول پکڑنے کے باعث ان کا روزگار متاثر ہوگا، لاکھوں پاکستانی واپس آنے پر مجبور ہوں گے اور یوں پاکستان کا سب سے بڑا ڈالرکا ذریعہ کمزور پڑجائے گا۔گزشتہ 8ماہ کے دوران برآمدات کم اور درآمدات زیادہ ہونے کے باعث جولائی تا فروری 2026پاکستان کا تجارتی خسارہ 25 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، اب تیل کے درآمدی بل بڑھنے کے باعث تجارتی خسارہ خطرناک حد تک بڑھ سکتا ہے اور یہ لگنے والا ایسا زخم ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ حکومت بچت پالیسی پر عملدرآمد کر رہی ہے۔
سرکاری اخراجات کم کیے جا رہے ہیں مہنگائی کم کرنے کے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں لیکن اب اس طرف فوری توجہ دینا ہوگی کہ جو چیزیں ہم خود بنا سکتے ہیں، ان کو بنانے کی پلاننگ کی جائے۔ توانائی میں خود کفالت کے حصول کے لیے مقامی گیس اور تیل کی تلاش کا کام مزید تیز کیا جائے۔ ایران سے گیس لینے کے معاہدے کا جائزہ لیا جائے۔ رکاوٹوں کو دور کیا جائے خاص طور پر سولر انرجی کے حصول کی کوششیں تیزکی جائیں۔ ترکیہ سے کیے گئے زرعی معاہدے پر عملدرآمد کی رفتار کو تیز کرکے ہم زراعت کو جدید بنا سکتے ہیں تو خوراک کی زائد پیداوار کے حصول سے مہنگائی کو کم کیا جاسکتا ہے۔ وقت کی پکار یہ ہے کہ اگر آج ہم نے خود کو نہ بدلا تو کل ہر عالمی جنگ ہماری گھریلو مہنگائی بن جائے گی۔
پاکستان میں ہر عالمی جنگ کا پہلا دھماکہ بارود سے نہیں بلکہ غریب کی خالی جیب سے سنائی دیتا ہے۔ ایک غریب مزدور امریکا اور ایران کی جنگ کو نہیں سمجھتا، مگر مہنگائی کی زبان کو خوب جانتا ہے، اسے معلوم ہے کہ جب آبنائے ہرمز کے تیور بدلتے ہیں تو اس کے چولہے کی آنچ مدہم پڑجاتی ہے۔ دنیا کے نقشے پر بننے والی جنگی لکیرآٹے، دال ، سبزی کی قیمت میں کھنچ جاتی ہے ۔ یہاں میزائل کے اثرات سے مہنگائی نیا دھماکہ کرتی ہے، ٹینک وہاں چلتے ہیں کرایوں کا پہیہ غریب یہاں کچل دیتا ہے فوجیں وہاں لڑتی ہیں لیکن یہاں مزدور اور دکاندار روز الگ نئی جنگ لڑتے ہیں ہر عالمی تنازعہ پاکستان میں غربت، بھوک ، بیروزگاری کی خبر بن کر آتا ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ میزائل وہاں چلتے ہیں اور مہنگائی یہاں ہوجاتی ہے۔ امریکا ایران ٹکراؤ کی ایک قیمت پاکستان کا غریب ادا کررہا ہے گولی ہزاروں میل دور چلتی ہے، میزائل وہاں گرتے ہیں دھماکے ہوتے ہیں مگر اس کی گونج یہاں پٹرول پمپ، سبزی منڈی، فروٹ منڈی ، جوڑیا بازار میں سنائی دیتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک ایسی معیشت جو اپنی توانائی، اپنی خوراک، اپنی پالیسیوں میں خود مختار نہیں بلکہ آئی ایم ایف کی طرف دیکھتا ہے، اسی لیے ہر عالمی جھٹکے سے پاکستانی معیشت لرز کر رہ جاتی ہے۔