پاسدارانِ انقلاب کے بیان کے مطابق یہ حملے آپریشن وعدہ صادق 4 کی 90 ویں لہر کے تحت کیے گئے، جن میں امریکا و اسرائیل کی فضائیہ کے سات ائیربیسز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ بحرین میں قائم ایک بین الاقوامی ٹیکنالوجی کمپنی کے کلاؤڈ کمپیوٹنگ سینٹر کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد مبینہ طور پر کمپنی نے خطے سے اپنے آپریشنز محدود یا بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد دشمن کی عسکری اور تکنیکی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکا اور اسرائیل کو میدانِ جنگ میں مشکلات کا سامنا ہے اور وہ براہِ راست مقابلے کے بجائے مبینہ طور پر مخصوص اہداف پر حملے کر رہے ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں تو مزید اہم اہداف اور کمپنیوں کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ایرانی حکام نے موجودہ صورتحال کا ذمہ دار امریکی قیادت کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ دنوں میں مزید سخت اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس قسم کے دعوے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتے ہیں اور اس سے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو سکتا ہے۔