شہر میں گزشتہ کئی سالوں سے جاری اربوں روپے کے ترقیانی کام کروانے والے شہریوں سے بھی چھپنے لگے ہیں۔
کراچی کی بیشتر سڑکیں بارش کے پانی کے ساتھ بہہ گئیں۔ لیاقت آباد، گلشن اقبال، نیپا، یونیورسٹی روڈ، سول اسپتال سمیت متعدد مقامات پر بارش اور گٹر کا پانی جمع ہے۔
شہر میں جاری ترقیاتی منصوبے شہریوں کے لیے وبال جان بن گئے، متعدد شہری گڑھوں میں گر گئے، موٹر سائیکلیں اور کاریں گڑھوں میں گر گئیں جبکہ ریڈ لائن اور کریم آباد انڈر پاس شہریوں کے لیے خوف کی علامت بن گیا۔
مرکزی سڑکوں کے ساتھ ساتھ گلیوں محلوں پانی جمع ہوگیا، نکاسی آب کے کوئی خاطر خواہ انتظامات دیکھنے کو نہیں ملے جبکہ مختلف علاقوں میں گٹر ابل گئے اور نالے اوورفلو ہونے سے بھی شہریوں کو مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑا۔
کراچی میں بارش کے بعد شہر کے بدترین انفرا اسٹرکچر نے شہریوں کی زندگی اجیرن کرکے رکھ دیا۔