ایران کا اسرائیل میں 50 مقامات، امریکی ریڈار، بحری تنصیبات تباہ کرنے کا دعویٰ

0 minutes, 15 seconds Read
ایران مسلح افوااج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے پورے خطے میں موجود امریکی اسٹریٹجک ریڈار سسٹم اور بحری تنصیبات کو تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں اسرائیل کے 50 مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب کے شعبہ تعلقات عامہ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایرنی بحریہ اور ایرو اسپیس فورس نے آپریشن وعدہ صادق 4 کی 92 ویں مہم کے آغاز کے ساتھ ہی خطے اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں موجود امریکی ریڈار سسٹم اور بحری تنصیبات پر بلیسٹک میزائلوں اور خود کش ڈرونز سے حملہ کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ بحری حملے کے پہلے مرحلے میں اپنائی گئی حکمت عملی کو کامیابی حاصل ہوئی، جس میں امریکی ایمفیبیئس لینڈنگ کرافٹ یوٹیلیٹی (ایل سی یو) جہاز جمع کرنے کے مقام (شویخ بندرگاہ) کو بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے تباہ کر دیا گیا۔

پاسداران انقلاب کے مطابق بحرین میں جبل الدخان کے ریڈار سائٹ پر نصب اے آر-327 طویل فاصلے تک نگرانی کرنے والا تھری ڈی ارلی وارننگ ریڈار کو بھی ڈرون حملے میں نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا ہے۔

بیان میں بتایا گیا کہ پاسداران انقلاب کی ایرو اسپیس فورس نے گزشتہ رات کے حملوں کے تسلسل میں کامیابی کے ساتھ دو بیلسٹک میزائل فائر کیے، جنہوں نے حیفہ کے جنوب مشرق میں واقع رمات ڈیوڈ ایئربیس کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا جہاں اسرائیلی F-16  لڑاکا طیاروں کے اسکواڈرن موجود ہیں۔

🔴 IRGC statement on 92nd wave of Operation True Promise 4:

🔺 Navy and Aerospace forces carried out rapid combined strikes with ballistic missiles and attack drones on US radar systems and naval assets across the region and in occupied Palestine. pic.twitter.com/TVAD306mch
— Press TV 🔻 (@PressTV) April 3, 2026

مزید بتایا گیا کہ ایرو اسپیس کی ایک اور کارروائی میں فائر فار فائر حکمت عملی اور مسلسل حملوں کے تحت، تل ابیب اور مقبوضہ علاقوں کے مرکزی حصوں میں 50 سے زائد مقامات کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا، ان حملوں میں خرم شہر-4 ملٹی وار ہیڈ میزائل استعمال کیے گئے۔

پاسداران انقلاب نے کہا کہ ایران کی جوابی کارروائیوں نے واشنگٹن اور تل ابیب کو بھاری نقصان پہنچایا ہے اور ان کی فوجی دھمکیاں بے سودی ثابت ہوگئی ہیں اور  اس طرح مزید حملے جاری رہیں گے۔

Similar Posts