ان کے انتقال کے بعد ان کا بیٹا طارق رحمان بنگلہ دیش کے نئے انتخابات میں پارٹی کی کامیابی کے بعد نیا وزیر اعظم بن چکا ہے۔
جب ان کی والدہ برسراقتدار تھیں وہ حکومتی کاموں میں اپنی والدہ کا ہاتھ بٹاتے رہتے تھے، وہ حسینہ واجد کے دور میں سیاسی مخالفت کی وجہ سے جیل میں ڈال دیے گئے تھے۔ وہ تقریباً دو سال جیل میں رہے اور جیسے ہی رہائی ملی ملک چھوڑ کر یورپ چلے گئے تھے جہاں انھوں نے 17سال گزارے۔
انھوں نے کئی مرتبہ وطن آنا چاہا مگر ان کی والدہ نے انھیں روک دیا کیونکہ وہ خود حسینہ واجد کے سیاسی انتقام کی وجہ سے طویل جیل کاٹ رہی تھیں، وہ نہیں چاہتی تھیں کہ بیٹا پھر قید ہو جائے۔ حسینہ واجد نے بھارتی ’’را‘‘ کی مدد سے تین بار عام انتخابات میں کامیابیاں حاصل کیں۔
وہ 2001 سے 2025 تک یعنی 24 سال تک بنگلہ دیش کی مطلق العنان حکمراں رہیں، اس سے قبل بھی وہ 1996سے 2001تک بنگلہ دیش کی وزیر اعظم رہ چکی تھیں۔ حسینہ واجد کے والد شیخ مجیب الرحمٰن بنگلہ دیش کے بانی کہلاتے ہیں مگر اس میں بھی تنازعہ ہے کیونکہ خالدہ ضیاء کے شوہر ضیاء الرحمن بھی خود کو بنگلہ دیش کا بانی کہتے تھے پھر ان دونوں کے دعوؤں سے ہٹ کر بھارت خود کو بنگلہ دیش کا بانی قرار دیتا ہے۔
حسینہ واجد مجیب الرحمن کی بیٹی ہونے کے ناتے عوامی لیگ میں کافی اثر رکھتی تھیں اور دراصل یہی پارٹی تھی جس نے بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کو دولخت کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ حسینہ واجد اپنے والد کے پاکستان کو توڑنے میں اہم کردار کی وجہ سے بنگلہ دیش کو اپنے والد کی میراث خیال کرتی تھیں اور اسی طرح بنگلہ دیش پر حکومت کرنا اپنا حق سمجھتی تھیں۔
ان کے اسی خیال نے انھیں بنگلہ دیش کا ایک جابر اور مغرور حکمراں بنادیا تھا۔ مجیب الرحمٰن نے 1972 سے اگست 1975 تک بنگلہ دیش میں حکومت کی تھی مگر ان کی حکومت بھی بدعنوانی کی وجہ سے بدنام رہی تھی، وہ غریبوں کے لیے کچھ نہیں کرسکے۔
انھوں نے پاکستان کو توڑتے وقت بنگالی مسلمانوں سے جو وعدے کیے تھے،ایک بھی پورا نہیں کیا البتہ بنگلہ دیش کو بھارت کا غلام بنادیا۔ 15اگست 1975 کو بنگلہ دیش کی فوج کے چند جوانوں نے ان کی دھان منڈی میں رہائش گاہ پر حملہ کرکے انھیں ان کے خاندان سمیت قتل کردیا تھا چونکہ ان کی دونوں بیٹیاں حسینہ واجد اور ریحانہ وہاں موجود نہیں تھیں وہ بچ گئی تھیں۔
حسینہ واجد 1991میں بنگلہ دیش کی وزیراعظم منتخب ہوئیں اور 2009میں بھارت کی حمایت اور ’’را‘‘ کی کوششوں سے وزیر اعظم منتخب ہوگئیں۔ اس کے بعد تین عام انتخابات منعقد ہوئے جن میں وہ فاتح رہیں حالاں کہ ان انتخابات میں حد سے زیادہ بے ضابطگیاں ہوئیں۔
ان انتخابات کے وقت حزب اختلاف کی سب سے بڑی رہنما خالدہ ضیاء کو جیل میں رکھا گیا تھا۔ حسینہ واجد نے مسلسل 24 سال تک حکومت کی۔ ان کی طاقت کا اصل سرچشمہ بھارت تھا۔ حسینہ کی حکومت مکتی باہنی کے دہشت گردوں پر بہت مہربان تھی کیونکہ مکتی بانی کے دہشت گردوں نے بھی بھارتی فوج کے ساتھ مل کر پاکستان کو توڑا تھا اور یوں مجیب الرحمٰن کے خاندان کو اقتدار تک رسائی ملی تھی۔
حسینہ کی حکومت کو حد سے زیادہ بھارت سے لگاؤ اور کھلے عام کرپشن کی وجہ سے عوام میں غیر مقبول بنادیا تھا پھر اس نے عام نوجوانوں کو نوکریاں دینے کے بجائے مکتی باہنی کے دہشتگردوںکی اولادوں کو نوکریاں دینا شروع کی تو نوجوانوں کے ساتھ ساتھ عوام بھی اس کی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔
یہ احتجاج دن بدن بڑھتا ہی گیا اور چنددنوں میں پورے ملک میں پھیل گیا۔ حسینہ نے اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے پولیس اور فوج کو استعمال کیا چنانچہ سیکڑوں نوجوانوں کو شہید کردیاگیا مگر عوامی احتجاج جو انقلاب کی صورت اختیار کرگیا تھا نہ رکا اور بالاخر حسینہ کو ملک چھوڑ کر بھارت میں پناہ لینا پڑی۔
وہ بھارت کے سوا کسی دوسرے ملک میں پناہ لینا چاہتی تھیں مگر کسی ملک نے اپنے ہاں نہ آنے دیا کیونکہ اس کے ہاتھ اپنے ہی عوام کے خون سے آلودہ تھے۔ بنگلہ دیش میں ایک عبوری حکومت قائم ہوگئی جس کے سربراہ عالمی شہرت یافتہ بینکار اور نوبل انعام یافتہ محمد یونس مقرر ہوئے ۔ وہ ایک جہاں دیدہ شخص ہیں ان کے دور میں پاکستان سے تعلقات بحال ہوئے جو حسینہ واجد کے دور میں خراب سے خراب تر ہوگئے تھے۔
انھوں نے وعدہ کے مطابق 12فروری 2026 کو عام انتخابات منعقد کرائے جس میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی فاتح رہی جس کے نتیجے میں خالدہ ضیاء کے بیٹے طارق رحمان وزیراعظم بنے۔ حسینہ کے دور میں خالدہ ضیاء کے ساتھ بہت زیادتیاں ہوئیں اور انھیں اکثر جیل میں رکھاگیا۔
خالدہ ضیاء نے اپنے دور میں پاکستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات قائم رکھے مگر اب ان کے بیٹے طارق رحمان کی پالیسی میں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے ۔ انھوں نے بھارت سے پھر سے پہلے جیسے دوستانہ تعلقات قائم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
ایران جنگ کی وجہ سے اس وقت تمام ہی ملک ایندھن کی کمیابی کا شکار ہیں۔ طارق رحمان نے بھارت سرکار سے تیل کی درخواست کی تھی جس پر بھارت نے پانچ ہزار میٹرک ٹن پٹرول بنگلہ دیش کو فراہم کردیا ہے۔ اس سے پتا لگتا ہے کہ بھارت بھی بنگلہ دیش سے اپنے تعلقات بہتر چاہتا ہے مگر اس نے بنگلہ دیش کے ساتھ جو زیادتیاں کیںان کا کیا ہوگا۔
حسینہ واجد کے حکم پر ہر سال بنگلہ دیش میں 1971 میں مرنیوالے بنگالیوں کی یاد میں سوگ منایا جاتا ہے جو کہ یقیناً بھارت کی فرمائش پر ہی منعقد کیا جاتا ہے تاکہ پاکستان اور اس کی فوج کو بدنام کیا جاسکے۔
بدقسمتی سے یہ دن طارق رحمان کی نئی حکومت میں پورے بنگلہ دیش میں منایاگیا جب کہ حزب اختلاف کی بڑی پارٹی جماعت اسلامی اس کے خلاف تھی کیونکہ یہ دراصل بھارت کو خوش کرنے کے لیے منایا جاتا ہے۔
طارق رحمان بھول گئے کہ ان کی والدہ کے ساتھ حسینہ واجد نے کیا کیا ظلم کیے تھے ، صرف اس لیے کہ وہ پاکستان سے دوستی کی خواہاں تھیں اور 1971 کی علیحدگی کے وقت تمام قتل و غارت گری کا ذمے دار عوامی لیگ اور اس کے دہشت گردوںکو قرار دیتی ہیں ۔ اس کے دور میں پاکستان سے تجارتی تعلقات بحال ہوچکے تھے، وہ بحیثیت بنگلہ دیشی وزیراعظم پاکستان کا دورہ بھی کرچکی تھیں۔ اب طارق رحمان کی پالیسی میں تبدیلی کے اشارے سامنے آرہے ہیں۔دیکھتے ہیں ، آگے کیا ہوتا ہے۔