ایران کے وزیر کھیل احمد دونیامالی نے اتوار کے روز ترکیہ کی ایک نیوز ایجنسی کو بتایا کہ ایران کی فٹبال فیڈریشن نے اسپورٹس گلوبل گورننگ باڈی سے اپنے میچز منتقل کرنے کی درخواست کی تھی، تاہم ابھی تک کوئی جواب نہیں ملا۔
انہوں نے کہا کے اگر فیفا کی جانب سے ہماری یہ درخواست قبول ہوجاتی ہے تو ایران کی ورلڈکپ میں شرکت یقینی ہوجائے گی۔ تاہم ایران ابھی تک فیفا کی جانب سے ملنے والے جواب کا انتظار کر رہاہے۔
کینیڈا اور میکسیکو کے ساتھ جون جولائی میں ٹورنامنٹ کی میزبانی کرنے والے اسرائیل اور امریکا نے 28 فروری سے ایران پر حملے شروع کر دیے جس سے مشرق وسطیٰ میں بھی کشیدہ صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔
ایشیا سے فیفا ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے والی ایران کی فٹبال ٹیم کے تمام گروپ میچز امریکا میں شیڈول ہیں۔ تاہم جاری کشیدگی کے باعث ایران نے امریکا میں میچز کھیلنے سے انکار کیا اور فیفا سے اپنے میچز میکسیکو منتقل کرنے کی درخواست کی۔
جنگ کے آغاز کے دو ہفتوں کے اندر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران اپنے میچوں کے لیے امریکا آئے لیکن میں یہ یقینی طور پر مناسب نہیں سمجھتا کہ وہ وہاں اپنی جان اور حفاظت کے لیے موجود ہوں۔
جس کے جواب میں ایران کی فٹبال ٹیم نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ کوئی بھی ایران کو ورلڈ کپ سے باہر نہیں کر سکتا۔
ایران فٹبال کے سربراہ مہدی تاج نے کہا کہ جب ٹرمپ نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ ایرانی قومی ٹیم کی حفاظت کو یقینی نہیں بنا سکتے تو ہم یقینی طور پر امریکا کا سفر نہیں کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم ایران کے میچز امریکا سے میکسیکو منتقل کرنے کے لیے فیفا سے بات چیت کر رہے ہیں۔