اپنے تازہ بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل کے مزید اہداف ہیں جنہیں یا تو کسی معاہدے کے ذریعے یا جنگ دوبارہ شروع کرکے حاصل کیا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی میں لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ شامل نہیں ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج مکمل الرٹ ہے اور ہماری انگلیاں ٹریگر پر ہیں، کسی بھی ممکنہ خطرے یا فیصلے کی صورت میں فوری کارروائی کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چاہے سفارتی معاہدہ ہو یا فوجی طاقت، اسرائیل ایران کے افزودہ یورینیم پروگرام کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
نیتن یاہو نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ جنگ بندی اسرائیل کے مکمل تعاون سے طے پائی، تاہم اسے تنازع کا اختتام نہیں سمجھا جانا چاہیے بلکہ یہ ایک عارضی مرحلہ ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم کے اس بیان سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے اور جاری امن کوششوں کو دھچکا لگ سکتا ہے۔