ایران نے اس موقع پر وقتی طور پر آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کی اجازت دینے کا بھی عندیہ دیا۔جنگ بندی کے اس اعلان کی ہر طرف سے پذیرائی ہو رہی ہے۔ہر ملک نے پاکستان کی غیر معمولی سفارتی کامیابی کو سراہا ہے۔ہر اخبار،ہر نیوز چینل پاکستان کا ذکر کر رہا ہے۔امید ہے کہ دونوں فریقین جمعہ 10اپریل کو اسلام آباد میں ملیں گے اور پائیدار امن کے لیے کسی لائحہ عمل پر متفق ہو جائیں گے۔جنگ بندی کے اعلان کے ساتھ ہی تیل کی قیمتوں میں فوری کمی آنی شروع ہو گئی اور اسٹاک مارکیٹوں میں کاروبار میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
خدا نے پاکستان کو ایک انتہائی اہم کردار سے نوازا ہے جس پر رب العزت کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے،کم ہے۔مئی 2025 میں انڈیا کے ساتھ چار روزہ جنگ کے بعد پاکستان کی پروفائل میں الحمد ﷲ بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔پاکستانی انتظامیہ نے بھی بہت عزم و حوصلہ اور اعتماد کے ساتھ عالمی منظر نامے میں رنگ بھرا ہے اور پاکستان کے لیے جائز جگہ بنائی ہے۔اب ہر طرف سے اچھی خوشبو آ رہی ہے۔مئی 2025میں پاکستانی افواج خاص کر پاکستان ایئر فورس نے ثابت کیا کہ پاکستان دفاعی لحاظ سے ایک مضبوط ملک ہے اور یہ اپنی طرف اٹھنے والے ہر ہاتھ کو کاٹ کر رکھ سکتا ہے اور ہر میلی آنکھ کو پھوڑ سکتا ہے۔
حالیہ امریکا،اسرائیل اور ایران جنگ کے دوران پاکستان نے خاموش اور رازداری سے بھرپور سفارت کاری کا ڈول ڈالا۔پاکستان کے وزیرِ اعظم،وزیرِ خارجہ اور فیلڈ مارشل نے ممالک کے ساتھ بہترین رابطہ کاری کی۔ پاکستان نے مغربی ممالک اور جنگ کے سب سے اہم فریقین کے ساتھ بات چیت جاری رکھی۔ مذاکرات کے لیے ایرانی نکات انتہائی رازداری سے واشنگٹن تک پہنچائے اور اسی طرح امریکی نکات تہران تک پہنچائے۔انڈیا کئی دہائیوں سے پاکستان کو تنہا کرنے میں لگا ہوا تھا لیکن آج انڈیا خودRelevant نظر نہیں آ رہا۔اب جب کہ پاکستان دفاعی لحاظ سے مضبوط اور سفارتی لحاظ سے تنومند بن کر ابھرا ہے،پاکستان کو اپنی معیشت کی طرف پورا دھیان دینا ہے۔پاکستان کے عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔
پاکستان نے جمہوریت اور ڈکٹیٹرشپ دونوں کا ناکام تجربہ کیا ہے۔ عوام نے صدارتی اور پارلیمانی دونوں طرزَ حکومت کو دیکھا ہے لیکن حاصلِ تجربہ یہی رہا ہے کہ اقتدار میں آنے کے بعد کوئی بھی سیاسی پارٹی،کوئی بھی رہنماء یا فرد عوام کے دکھ درد کی بات تو کرتا ہے لیکن عملاً عوام کو دکھوں میں مبتلا کیے بغیر اسے چین نہیں آتا۔اپوزیشن میں ہوں تو عوام کے دکھوں کا درد ان کے پیٹ میں اُٹھتا رہتا ہے جب کہ اقتدار میں آ کر صرف ایک راگ الاپا جاتا ہے کہ عالمی منڈی میں حالات موافق نہیں۔جناب شہباز شریف صاحب ،بانی پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف یعنی اپوزیشن لیڈر تھے۔
مہنگائی بڑھ رہی تھی تو ایک دن قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انھوں نے پی ٹی آئی حکومت کے خوب لتے لیے۔ فرمایا اگر کسی کی تنخواہ بیس یا پچیس ہزار روپے ہو اور اس کے گھر کا بجلی کا بل یا گیس کا بل دس ہزار روپے آ جائے تو وہ کیا کرے گا۔ایسے میں وہ کس طرح اپنے بیوی بچوں کی ایک وقت کی روٹی پوری کرے گا۔وہ کس طرح اپنی بیمار بیٹی کے لیے دوائی لے کر آئے گا۔وہ کس طرح بچوں کے جسم کے لیے سادہ سے کپڑے بھی مہیا کرے گا۔شہباز شریف صاحب نے مزید فرمایا کہ دیکھتی آنکھوں اور ان سنتے کانوں نے اس سے پہلے اس طرح کا حشر 74سالوں میں نہیں دیکھا۔اس وقت کی حکومت کے سربراہ اور وزیرِ اعظم جناب عمران خان نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر دنیا میں جنگ چھڑ جاتی ہے،اگر ایران کی جنگ ہو جاتی ہے تو تیل کی قیمت چار سو،پانچ سو روپے فی لٹر تک جا سکتی ہے۔
یہ ہمارے قابو میں تو نہیں اور پھر پاکستان جو چیزیں باہر سے منگواتا ہے مثلاً تیل۔پھر آدھی بجلی فرنس آئل سے بنتی ہے وہ مہنگی ہو گی،پھر جو گھی ہم باہر سے منگواتے ہیں،پام آئل وغیرہ وہ دگنا ہو گیا۔دالیں 70فیصد باہر سے آتی ہیں وہ دگنی ہو گئیں تو ساری دنیا میں جو مہنگائی ہوئی وہ ظاہر ہے پاکستان میں بھی ہو گی۔پاکستان اسی دنیا میں ہے۔ساری دنیا کی مہنگائی کا اثر پاکستان پر بھی تو ہوتا ہے۔
یہ ایک امرِ واقعہ ہے کہ ایران کے خلاف امریکا و اسرائیل کی حالیہ جنگ نے ساری دنیا خاص کرمغربی ایشیا اور جنوبی ایشیا کی معیشتوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے لیکن کسی بھی ملک کی حکومت ہوتی ہی اس لیے ہے کہ امن و امان کو برقرار رکھے،ناگہانی آفات،جنگوں اور شورشوں میں ملک کے لوگوں پر بہت زیادہ منفی اثرات نہ مرتب ہونے دے۔ایران پر جنگ تھونپ دی گئی ہے۔بیگناہ لوگ شہید ہو رہے ہیں لیکن مارکیٹیں کھلی ہیں۔اشیائے خور و نوش کی قیمتیں بڑھنے کے بجائے کم ہوئی ہیں۔ایرانی تاجروں اور دکان داروں نے موقع سے فائدہ اٹھانے اور عوام کا خون نچوڑنے کے بجائے ان کے لیے سہولتیں پیدا کی ہیں۔
انھوں نے اپنا منافع بہت کم کر کے اپنے منافع کی رقم کو عوام کو ریلیف دینے کے لیے استعمال کیا ہے۔پاکستانی قوم کے اندر قربانی دینے کا بے پناہ جذبہ ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مشکل وقت میں ہم اپنے ہم وطنوں کا خون نچوڑنے سے باز نہیں آتے۔اشیا کی قلت پیدا کرنا،ذخیرہ اندوزی کرنا اور قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کرکے خوب کمانا ہمارا وطیرہ ہے۔ ایک اچھے اور فلاحی معاشرے کے قیام کے لیے جو احکامات ہمیں دیے گئے ہیں ان سے روگردانی کرنے کے مرتکب ہوتے ہیں۔
جنگ شروع ہوتے ہی حکومتِ پاکستان نے پٹرول کی قیمت میں 55روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا۔27مارچ کو وزیرِ اعظم پاکستان نے عوام کو مژدہ سنایا کہ جنگ کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں جو ہوشربا اضافہ ہوا ہے،حکومت وہ بوجھ خود برداشت کرے گی اور عوام پر مزید بوجھ نہیں ڈالے گی۔پھر ایک دن پٹرول کی قیمت میں 138روپے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا جس سے ہر شے کی قیمت بڑھ گئی اور مہنگائی کا طوفان آ گیا۔حیرت ہوئی کہ ابھی 27مارچ کو عوام پر بوجھ نہ ڈالنے کا اعلان کیا گیا تھا۔دراصل حکومت آئی ایم ایف کے سامنے ڈھیر ہو گئی اور سارا بوجھ عوام کو منتقل کر دیا۔ جب سخت منفی ردِ عمل سامنے آیا تو اگلے دن پٹرول پر لیوی 80روپے کم کر کے پٹرول کی قیمت گھٹا دی۔حقیقت یہ ہے کہ اس وقت خام تیل اور ریفائنڈ تیل کی قیمت میں بڑا تفاوت ہے۔ریفائنری والے اس تفاوت سے بڑا منافع کما رہے ہیں۔حکومت کو چاہیے کہ عوام کے ساتھ زیادتی نہ ہونے دے اور ریلیف مہیا کرے۔