مذاکرات میں قابل قبول امن فارمولا طے کرنیکی کوشش کی جائیگی

0 minutes, 0 seconds Read
دنیا کی معیشت کو بحران سے نکالنے اور عالمی سطح پر ایک بڑے امن معاہدے کیلیے اسلام آباد بیٹھک میں امریکا اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی کے بعد  پہلے براہ راست مذاکرات پاکستان کی میزبانی اور ثالثی میں آج ہوں گے.

امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے،ایرانی وفد کی قیادت پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر محمد باقر قالیباف کریں گے۔

میزبان پاکستان کی جانب سے  وزیراعظم شہباز شریف مذکرات کی قیادت کریں گے جبکہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحق ڈار، فیلڈ مارشل سیدعاصم منیر اور اعلیٰ سفارتی حکام بھی شریک ہوں گے. 

سفارتی ذرائع کا کہنا یے کہ اس وقت پوری دنیا کی نظریں پاکستان پر ہیں،عالمی ممالک مذاکرات کی کامیابی کے منتظر ہیں.

سفارتی ذرائع نے بتایا کہ بات چیت کو آگے بڑھنے کے لیے اگر ایک نشست ممکن نہیں تو پاکستان مذید نشستوں کی میزبانی کرے گا.

سفارتی ذرائع کا کہنا کہ فریقین کی جانب مذاکرات کے آغاز پر تفصیلی گفتگو سے مسائل حل کرنے کے مثبت اشارے آئے ہیں. 

پاکستان کی کوشش ہے کہ مذاکرات میں پہلے ان نکات پر اتفاق ہو جس پر فریقین جلد متفق ہوں،آبنائے ہرمز کو مکمل کھولنے اور سمندری تجارت کی بحالی کے لیے مشترکہ اور محفوظ فریم ورک طے ہو.

مذاکرات کے حوالے پاکستان نے اپنا ہوم ورک مکمل کرلیا ہے، عالمی ممالک سے مشاورت کے بعد ایک قابل قبول امن فارمولا مذاکرات میں طے کرنے کی کوشش کی جائے گی.

مذاکرات میں عارضی جنگ بندی کے ٹائم فریم کو بڑھانے اور مستقل جنگ بندی پر غور ہوگا،دونوں فریقین کے مجوزہ نکات پر غور سمیت مزید امور زیر غور آئیں گے،پاکستانی حکام کو امید ہے کہ مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہوں گے۔

Similar Posts