بی بی سی فارسی کے مطابق ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت کھلی ہوئی ہے تاہم جہازوں کے محفوظ گزرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایرانی افواج کے ساتھ رابطے میں رہیں تاکہ تکنیکی اور سیکیورٹی معاملات کو یقینی بنایا جا سکے۔
ایرانی نائب وزیر کے مطابق ایران اپنے متعین کردہ محفوظ راستوں کے ذریعے جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنائے گا۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ٹرمپ نے ایران پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل کے معاملے میں مناسب رویہ اختیار نہیں کر رہا اور یہ طے شدہ معاہدوں کے خلاف ہے۔
دوسری جانب ایران کے سرکاری میڈیا میں شائع ہونے والے ایک بیان میں پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ سمندری سیکیورٹی اصولوں پر سختی سے عمل کریں اور ممکنہ خطرات، خصوصاً بارودی سرنگوں سے بچنے کے لیے متبادل راستے اختیار کریں۔
پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری نقشے کے مطابق بحیرہ عمان سے داخل ہونے والے جہاز جزیرہ لاراک کے شمالی راستے سے گزر کر خلیج فارس کی طرف جا سکتے ہیں، جبکہ واپسی پر جہاز لاراک جزیرے کے جنوبی حصے سے گزرتے ہوئے بحیرہ عمان کی جانب جا سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی عالمی تیل کی ترسیل کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، کیونکہ یہ راستہ دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے۔