بلدیہ عظمیٰ کراچی کے اجلاس میں گھمسان کا رن پڑ گیا، پی پی اور جماعت کے اراکین گتھم گتھا

0 minutes, 0 seconds Read
بلدیہ عظمیٰ کراچی کے اجلاس میں جماعت اسلامی اور پاکستان پیپلزپارٹی کے منتخب اراکین گتھم گتھا ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کی زیر صدارت سٹی کونسل کا اجلاس ہوا جس میں اپوزیشن لیڈر سیف الدین ایڈوکیٹ کی تقریر کے بعد جب پی پی کے رکن نجمی عالم نے تقریر کی تو ایوان میں شدید کشیدگی ہوئی۔

اس کے بعد جماعت اسلامی کے اراکین نے میئر کی ڈائس کے سامنے احتجاج اور نعرے بازی کی تو پیپلزپارٹی کے اراکین بھی کھڑے ہوگئے۔ پھر دونوں جماعتوں کے اراکین میں دھکم پیل اور ہاتھا پائی ہوئی۔

جماعت اسلامی کے اراکین نے اجلاس سے واک آؤٹ کیا تاہم میئر نے اجلاس کو جاری رکھا اور جھگڑے کے بعد بھی ایک گھنٹے تک اجلاس چلتا رہا۔

جماعت اسلامی کے واک آؤٹ کے باوجود اپوزیشن میں بیٹھی جماعتیں ن لیگ، پی پی اور دیگر کے اراکین اجلاس میں بیٹھے رہے۔ بعد ازاں اپوزیشن لیڈر کی قیادت میں جب اراکین ایوان میں واپس آئے تو انہیں بولنے کا موقع نہیں دیا گیا جس پر ایک بار پھر احتجاج ہوا۔

بعد ازاں میئر کراچی نے اجلاس کو غیرمعینہ مدت کیلیے ملتوی کردیا۔

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جماعت اسلامی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ایم کیو ایم کے بائیکاٹ کی وجہ سے یہ لوگ بلدیہ عظمیٰ کے ایوان میں پہنچے ہیں ورنہ ان کو موقع ہی نہیں ملتا۔ 

انہوں نے حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے پہلے 2001 میں ایم کیو ایم نے بائیکاٹ کیا اور پھر 2023 میں کیا تو اس کا فائدہ جماعت اسلامی کو ہوا۔

دوسری جانب اپوزیشن لیڈر سیف الدین ایڈوکیٹ نے الزام عائد کیا کہ میئر کراچی کے اشارے پر اشتعال انگیز تقاریر کی گئیں جبکہ ایوان میں باہر سے لوگ لاکر بٹھائے گئے جنہوں نے ہمارے کونسل کی کرسی چھینی اور تشدد کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے تھے کہ ملکی حالات کے پیش نظر اجلاس اچھے ماحول میں ہو مگر پیپلزپارٹی کا ایجنڈا کچھ اور تھا، باہر سے آئے ہوئے لوگ ہی کرپشن میں ملوث ہیں۔

 

Similar Posts