علاقائی کشیدگی میں کمی کیلیے سفارتی کوششیں مثبت پیشرفت ہیں، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی

0 minutes, 0 seconds Read
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے حالیہ سفارتی کوششوں کو علاقائی کشیدگی میں کمی، پائیدار امن اور علاقائی استحکام کی جانب ایک مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے مکالمے اور پرامن روابط کے فروغ میں پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا ہے۔

وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں منعقدہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان نے افغانستان تنازع کے دوران مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا کہ فوجی مداخلت سے پائیدار امن ممکن نہیں جبکہ دیرپا استحکام صرف مذاکرات اور سیاسی حل کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دو دہائیوں پر محیط افغانستان جنگ کے دوران عمران خان بارہا عالمی برادری سے “امن کو ایک موقع دیں” کی اپیل کرتے رہے اور خبردار کیا کہ جنگ صرف عدم استحکام میں اضافہ کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ تاریخ نے عمران خان کے اس مؤقف کو درست ثابت کیا ہے، کیونکہ اس جنگ میں لاکھوں افغان جانوں کا ضیاع ہوا جن میں اکثریت شہریوں کی تھی، امریکہ کو 2.3 ٹریلین ڈالر سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا جبکہ 2400 سے زائد امریکی فوجی جان بحق ہوئے اور بالآخر یہ جنگ ایک مذاکراتی انخلا پر ختم ہوئی جس نے عسکری طاقت کی حدود کو واضح کر دیا۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ اس طویل جنگ کے اثرات آج بھی خطے میں انسانی، معاشی اور سیکیورٹی مسائل کی صورت میں موجود ہیںِ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں اسلام آباد میں حالیہ سفارتی سرگرمیوں کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ عالمی برادری اب اسی نظریے کی جانب بڑھ رہی ہے جس کی وکالت عمران خان نے بہت پہلے کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر درست ثابت ہونے کے باوجود عمران خان کو پاکستان کی جمہوری تاریخ کی بدترین سیاسی انتقامی کارروائی کے تحت قید رکھا گیا ہے، صرف اس لیے کہ انہوں نے سچ بولا اور اپنے اصولوں پر قائم رہے۔ عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف بے بنیاد اور سیاسی مقدمات بنائے گئے ہیں، جن میں سے کئی اس قدر غیر منطقی ہیں کہ انصاف کا مذاق بن چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان مقدمات کی بروقت سماعت نہیں کی جا رہی، جو ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت ان کی قید کو طوالت دینے کی کوشش ہے، جو اب 950 دن سے تجاوز کر چکی ہے۔

وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ عمران خان کو عام قیدیوں کو حاصل بنیادی حقوق سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے، جن میں اہل خانہ، وکلاء، ذاتی معالجین اور بیٹوں سے ملاقات کا حق شامل ہے۔ انہوں نے ان کی تنہائی میں قید کو ذہنی تشدد اور دباؤ ڈالنے کی منظم کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ صورتحال اس حد تک خراب ہو چکی ہے کہ عدالتی احکامات کو بھی نظرانداز کیا جا رہا ہے اور پنجاب حکومت و اڈیالہ جیل انتظامیہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد سے گریز کر رہی ہے، جو آئینی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اڈیالہ جیل کے باہر پرامن احتجاج کو بھی جرم بنا دیا گیا ہے، جبکہ عمران خان کی بہنوں، پی ٹی آئی کارکنوں اور حامیوں کو ریاستی دباؤ تشدد اور ہراسانی کا سامنا ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ عمران خان کو سیاسی میدان سے باہر رکھنے کے لیے عدالتی ڈھانچے میں تبدیلی، آئینی ترامیم اور ادارہ جاتی مداخلت جیسے غیر معمولی اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن کی پاکستان کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی قید ایک منظم سیاسی انتقام ہے جس کا مقصد ملک کی مقبول ترین سیاسی آواز کو خاموش کرنا ہے، اور انہیں بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف، جو ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے، کو منظم انداز میں جمہوری حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے اور اسے جلسے جلوس، مہم چلانے اور اظہار رائے کی آزادی سے روکا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی مخالفین کے خلاف جھوٹے مقدمات بنانا ایک معمول بن چکا ہے تاکہ جمہوری اختلاف رائے کو دبایا جا سکے۔

Similar Posts