امریکا کے حد سے زیادہ مطالبات نے معاہدے کی راہ میں رکاوٹ ڈالی، ایرانی میڈیا

0 minutes, 0 seconds Read
اسلام آباد: ایران اور امریکا کے درمیان جاری اہم مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے ختم ہوگئے ہیں، جس کے بعد خطے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق دونوں فریقین کئی اہم معاملات پر اتفاق رائے حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

رپورٹس کے مطابق مذاکرات کی ناکامی کی بڑی وجہ امریکا کے سخت اور زیادہ مطالبات قرار دیے جا رہے ہیں۔

ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ واشنگٹن نے ایسے مطالبات پیش کیے جو اسے جنگ کے دوران بھی حاصل نہیں ہو سکے تھے، جس کے باعث مشترکہ فریم ورک اور ممکنہ معاہدے کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔

مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز، ایران کے جوہری حقوق اور خطے میں سیکیورٹی صورتحال جیسے اہم معاملات زیر بحث آئے، تاہم ان نکات پر شدید اختلافات برقرار رہے۔

ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ معاہدہ نہ ہونے کے باوجود آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال میں فوری طور پر کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

دوسری جانب سفارتی ذرائع کے مطابق امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس مذاکراتی وفد کے ہمراہ اسلام آباد سے واپس امریکا روانہ ہو گئے ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ فی الحال مذاکرات کا عمل تعطل کا شکار ہو چکا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی ناکامی سے خطے میں کشیدگی برقرار رہنے کا خدشہ ہے، جبکہ مستقبل میں دوبارہ بات چیت کے امکانات کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔

Similar Posts