مذاکرات کا نتیجہ مذاکرات سے پہلے

0 minutes, 0 seconds Read
مذاکرات کے چلتے چلتے دو راؤنڈ ہوئے اور بند دروازے بند کے بند رہے۔ ان دروازوں کے بند ہونے اور وہ لوگ جو ان کے پیچھے بیٹھے تھے، انھیں یہاں تک لانے میں 47  برس لگے ۔ اتنا وقت ایک جگہ بیٹھنے میں لگا ہو تو تھوڑا وقت فیصلے میں بھی لگ جائے تو زیادہ پریشانی نہیں ہونی چاہیے۔اس تاخیر پر ایک خیال تو یہی تھا لیکن اندیشہ ہائے دور دراز لا تعداد تھے۔

یہ بات اپنی جگہ درست ہے لیکن وہ جو کہتے کہ الانتظار اشد من الموت۔ تو بات یہ ہے کہ ہم لوگ نتیجے کے انتظار میں بیٹھے رہے اور ہماری کیفیت وہی رہی جو اس عربی محاورے میں کہی گئی ہے۔ یہ انتظار برحق لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ ایک نتیجہ ان مذاکرات کا مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی آ چکا تھا اور یہ نتیجہ وہی تھا جس کا ہمیں انتظار تھا یعنی جنگ بندی۔ یہ اہم نہیں ہے کہ جنگ بندی ایک دن کی ہے، پندرہ دن کی یا کسی طویل مدت کے لیے ہے۔ یہ نتیجہ کیوں اہم ہے؟ یہ بات ہم سمجھ سکیں تو معمہ حل ہو جائے گا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی موجود تھی کہ وہ ایرانی تہذیب کا نام و نشان مٹا دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے جو الٹی میٹم دیا تھا، اس کے گزرنے میں دو چار گھنٹے ہی باقی تھے کہ وزیر اعظم شہباز شریف کا ایکس ہینڈل بول پڑا۔ انھوں نے فریقین سے جنگ بندی کی اپیل کی، فریقین نے جس کا خیر مقدم کیا پھر جنگ بندی ہو گئی۔ کیا وزیر اعظم شہباز شریف نے یہ ٹویٹ کوئی منتر پڑھ کر کیا تھا کہ یوں کارگر ثابت ہوا؟

ایک منتر تو انھوں نے پڑھا تھا لیکن یہ منتر کسی سامری جادو گر والا نہیں بلکہ ایک اور قسم کا تھا۔ قدرت کا ایک قانون ہے، اس کائنات کا نظام جس کے تحت چلتا ہے۔ قانون یہ ہے کہ پوری نیک نیتی کے ساتھ محنت کر کے نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیا جائے۔ پاکستان نے یہی کیا تھا۔ پاکستان گزشتہ برس بارہ روزہ جنگ سے اب تک ایران امریکا کشیدہ صورت حال سے وابستہ رہا ہے اور اس آگ کو بجھانے کی کوششوں میں شریک رہا ہے۔

ان کوششوں میں کچھ وہ ہیں جن کی تفصیل سب جانتے ہیں جیسے اسلام آباد میں چار اسلامی ملکوں کے وزرائے خارجہ کا اجلاس۔ اجلاس کے فوراً بعد اسحاق ڈار کا دورہ ٔبیجنگ۔ یہ دو واقعات ریکارڈ کا حصہ ہیں لیکن اس سرگرمی کے ساتھ منسلک سفارتی رابطوں کا نہ ختم ہونے والا ایک سلسلہ ہے۔ ایسا نہ ہوتا تو رات کے پچھلے پہر آنے والے ٹویٹ کو ہاتھوں ہاتھ کون لیتا؟ ٹویٹ آئی تو پاکستانی قیادت کے بارے میں ایک جملہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ باوقار اور شان دار لوگ ہیں۔

چلیے صدر ٹرمپ کے بارے میں ہمارے کچھ تحفظات ہوں گے لیکن یہی تو وہ ٹویٹ تھا جس کے آنے پر ایران کے عوام پاکستانی پرچم اٹھائے سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ اس کے پس پشت ایک ہی راز تھا کہ ہماری سول ملٹری قیادت یعنی وزیر اعظم شہباز شریف ، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے دن رات کی پروا کیے بغیر ایک مٹھی بن کر پورے اخلاص نیت کے ساتھ کام کیا جس کا پھل اللہ نے جنگ بندی کی صورت میں دیا۔ اس محنت کے نتیجے میں صرف جنگ بندی نہیں ہوئی۔ ذات خداوندی نے پاکستان کو ایسی عزت سے نوازا جس کے لیے قومیں ترستی ہیں۔

ان مذاکرات کا یہی نتیجہ ہے جو مذاکرات سے پہلے انعام کی صورت میں میسر آ گیا۔ اب سوال یہ ہے کہ پھر مذاکرات میں کیا ہوتا رہا کہ نتیجے آنے میں دیر لگی؟ یہ داستان طویل بھی ہے اور درد ناک بھی۔ مسائل جب طول پکڑتے ہیں تو الجھتے چلے جاتے ہیں۔ ان کی پیچیدگی میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ اسلام آباد مذاکرات میں مسائل کی الجھی ہوئی اسی ڈور کو سلجھانے کی کوشش کی گئی۔ یوں کہنا مناسب ہو گا کہ ہاتھوں سے لگائی ہوئی گانٹھیں دانتوں سے کھولی گئیں۔

ان مسائل، گرہوں اور گانٹھوں کی نوعیت کیا ہے؟ ان مسائل کی ایک نوعیت تو وہی ہے جن کے بارے میں سب جانتے ہیں یعنی آبنائے ہرمز کا مستقبل، لبنان پر اسرائیل کے حملے، ایران کے لیے ایٹمی توانائی اور میزائل ٹیکنالوجی کا حق اور ایران کے ضبط شدہ اثاثوں سمیت ایسے ہی بہت سے دوسرے مسائل۔ یہ مسائل بھی پیچیدہ ہیں اور ان کے حل کے لیے بھی وقت درکار ہے لیکن کچھ مسائل ان سے بھی زیادہ پیچیدہ ہیں۔ ان مسائل کی ایک صورت عین اس وقت سامنے آئی جب ایران اور امریکا مذاکرات کی میز پر بیٹھ گئے۔

مارک تھیسن وائٹ ہاؤس کے تقریر نویسی کے شعبے کا ڈائریکٹر رہا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ میں مذاکرات کے دوران اس کا مضمون شائع ہوا جس میں اس نے لکھا کہ اگر مذاکرات ناکام ہو جائیں تو ان راہنماؤں کو بھی قتل کر دیا جائے جنھیں مذاکرات کے لیے زندہ چھوڑا گیا ہے۔ مارک تھیسن امریکا میں ایران کی مخالفت کرنے والے ان بہت سے طبقات کی علامت ہے جو مسلمانوں کو نیست و نابود کر دینا چاہتے ہیں۔ مارک تھیسن کی دھمکی کا ایک پہلو یہی ہے کہ ایران کو حسب خواہش معاہدے کے لیے دباؤ میں لایا جائے لیکن تھوڑی سی توجہ دی جائے تو ایک بات اور بھی سمجھ میں آتی ہے یہ کہ کچھ اسی قسم کا یا اس سے کچھ کم دباؤ امریکی مذاکرات کاروں پر بھی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ طرفین کے مذاکرات کاروں کی ذمے داری دوہری ہے۔ اصل مسئلہ بھی حل کرنا ہے اور مذاکرات کو ناکام بنانے والوں کو بھی ناکام بنانا ہے۔ جنگ کے دوران پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پس منظر میں کہا جاتا تھا کہ وہ تنے ہوئے رسے پر چل رہا ہے۔ بالکل اسی طرح مذاکرات کار بھی تنے ہوئے رسے بلکہ پل صراط پر چلے۔ اس لیے نتیجے میں دیر جائز تھی۔ ہمارے لیے یہی کافی ہے کہ مذاکرات ہو رہے ہیں اور وہ بھی ایسے جن کا نتیجہ جنگ بندی کی صورت میں سامنے آ چکا تھا۔

ہاتھوں سے لگائی ہوئی گرہیں دانتوں سے کھولتے کھولتے فریقین کا سانس ٹوٹ گیا اور اس کے ساتھ ہی مذاکرات کا یہ دور بھی لیکن امکانات برقرار ہیں اور جنگ بندی بھی۔ یہی ان مذاکرات کا نتیجہ ہے۔ امید ابھی ٹوٹی نہیں۔

Similar Posts