عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ فیصلہ وزیرِاعظم نیتن یاہو کے شمالی کمان کے دورے کے بعد کیا گیا جہاں اعلیٰ عسکری قیادت نے سرحد کے قریب طویل المدتی فوجی موجودگی بڑھانے کی منظوری دی۔
رپورٹ کے مطابق یہ اقدام اسرائیلی فوج کی حکمتِ عملی میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے جس کے تحت اب سرحدی علاقوں میں عارضی تعیناتی کے بجائے مستقل اور مضبوط فوجی موجودگی قائم کی جائے گی۔
خیال رہے کہ اس وقت اسرائیلی فوج جنوبی لبنان کے بعض علاقوں خصوصاً بنت جبیل کے علاقے میں کارروائیوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے جو ایک ہفتے تک جاری رہ سکتی ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر آئندہ ممکنہ مذاکرات سے قبل لڑائی رک بھی جائے تو فوجی قیادت نے ہدایت دی ہے کہ لبنان کے اندر زیادہ سے زیادہ عملی اہداف حاصل کیے جائیں۔
اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حالیہ جنگ بندی کے بعد سے حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر 400 سے زائد راکٹ اور 40 ڈرون حملے کیے گئے ہیں جس سے شمالی محاذ پر کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔