اڈیالہ روڈ داہگل ناکہ پر میڈیا سے گفتگو کے دوران بیرسٹر گوہر خان کا کہنا تھا کہ ایران امریکہ مذاکرات کے لئے جس جس نے جو کردار ادا کیا ہم اس کو سراہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میرے پاس پارٹی چیئرمین شپ بانی کی امانت ہے، جب کہیں گے چھوڑ دوں گا، میرے خلاف افواہیں پھیلائی گئیں لیکن میں اپنے موقف سے نہیں ہٹوں گا، فی الوقت ہمارے کسی سے کسی قسم کے کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ کسی کی ملاقات نہیں ہو رہی،جب پاکستان کی آواز لگتی ہے ہم ملک،قوم کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں یہ کیسے ممکن ہے کہ اتنے بڑے لیڈر سے ملاقات نہ کرنے دیں۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ جنوری میں عمران خان کی آنکھ کا آپریشن کروایا کسی کو نہیں ملوایا گیا بانی اور عوام میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں، اس سے ملک کا بے تحاشا نقصان ہو جائے گا، ایک مرتبہ ڈاکٹر کو جانے دیں سب کچھ کلیئر ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات پر ہمارا بیانیہ کلیئر ہے ہم عوام پاکستان اور ملک کی خوشی کے ساتھ ہیں، ابھی بھی بریک ڈاؤن نہیں ہوا ایک نیا سیشن ہو جائے گا، پاکستان مزید تناؤ اور نفرت کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ایران امریکہ مذاکرات پر ہمارا موقف واضح ہے ہم پاکستان کے ساتھ ہیں، سفارتی سطح پر پاکستان کو ملنے والے عزت کو ہم نے ویلکم کیا، ایران امریکہ مذاکرات میں بریک تھرو نہیں ہوا لیکن الحمدللہ بریک ڈاؤن بھی نہیں ہوا، امید ہے اگلے مذاکراتی دور میں عارضی سیز فائر مستقل ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کے امن کے لئے بہترین کردار ادا کر رہا ہے، اس جنگ سے پوری دنیا سمیت پاکستان کی معیشت متاثر ہو رہی ہے، ہم نے پاکستان کی خوشی میں جلسہ منسوخ کیا اور پاکستان کے کردار پر خوشی منائی جبکہ اسمبلی کے فلور پر کہا یہ کونسی صلح پسندی ہے، اپ دوسروں کی صلح کرائیں اور آپس میں لڑیں، دوسرے لوگوں کو جوڑیں اور اپنوں کو توڑیں، اگر آپ دنیا میں سیز فائر کراتے ہیں تو اپنوں میں بھی سیز فائر ہونا چاہیے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عالمی استحکام کے لئے داخلی استحکام بھی ضروری ہے، جوڈیشل پالیسی کے مطابق جن مقدمات کا فیصلہ 35دن میں ہونا تھا ان کو پندرہ ماہ لٹکایا گیا، سیاسی استحکام آنے سے صوبائی حکومتیں بہتر ہوں گی، سوشل میڈیا پر کسی کا کنٹرول نہیں لیکن ہم نے بطور جماعت پاکستان کے کردار کو بھرپور سپورٹ کیا۔