’’ایکسپریس نیوز‘‘ کو خصوصی انٹرویو میں فخر زمان نے کہا کہ پابندی ختم ہونے کے بعد ابھی میں نے زیادہ میچز میں حصہ نہیں لیا ہے، ٹی20 کرکٹ میں اگر 10 میں سے 3 یا 4 میچز میں بھی اچھا پرفارم کر جائیں تو یہ آپ کی جیت ہوتی ہے، بطور پروفیشنل کھلاڑی اگر ایسے معمولی واقعات آپ کی کارکردگی یا شخصیت کو متاثر کرنے لگیں تو پھر بقا بہت مشکل ہو جاتی ہے، پلیئرز کی زندگی میں اس سے کئی گنا زیادہ بڑے واقعات بھی پیش آتے ہیں، میں اگر یہ کہوں کہ حالیہ واقعے سے میری کارکردگی ایک فیصد بھی متاثر ہوئی تو وہ غلط ہوگا۔
ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ مجھے اوپننگ پسند ہے، میں نے شروع سے ہی اس پوزیشن پر بیٹنگ کی، کلب کرکٹ، پاکستان، پی ایس ایل سب میں اننگز کا آغاز کیا، یہ میری ترجیح تو ہے لیکن چاہے انٹرنیشنل کرکٹ ، اپنے کلب یا فرنچائز کی نمائندگی کروں وہاں جو کپتان و کوچ ہیں ان کو زیادہ پتا ہوتا ہے کہ کون سا پلیئر کس نمبر پر زیادہ اچھا کھیل سکتا ہے، لاہور قلندرز کو لگتا ہے کہ میں بطور اوپنر زیادہ بہتر پرفارم کر سکتا ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ٹیم کی مینجمنٹ کو اگر لگتا ہے کہ کوئی اور اس پوزیشن پر مجھ سے اچھا کھیل سکتا ہے تو وہ مجھے کسی اور نمبر پر ایڈجسٹ کرتے ہیں، آپ نے دیکھا بھی ہوگا کہ پی ایس ایل میں بھی بعض کھلاڑیوں کے ساتھ ایسا ہوتا ہے،اکثر تجربات کامیاب بھی نہیں ہوتے لیکن انٹرنیشنل اور فرنچائز کرکٹ میں کھلاڑی کو اپنی بیٹنگ پوزیشن کے حوالے سے اوپن رہنا چاہیے، جو کپتان اور کوچ کہے وہی کرنا پڑتا ہے، البتہ مجموعی طور پر اگر میں دیکھوں تو میں نے پوری زندگی اوپننگ کی میں اسی کو ترجیح دیتا ہوں۔