عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ نے یہ بات وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئی کہی۔
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور صورتحال بہت اچھی طرح چل رہی ہے باوجود اس کہ آج آبنائے ہرمز بند کرنے کا واقعہ پیش آیا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ہم ایران سے رابطے میں ہیں اور دن کے آخر تک اس معاملے پر مزید معلومات سامنے آ جائیں گی۔
صدر ٹرمپ کے بقول ایران نے آبنائے ہرمز بند کرکے معمولی سی چالاکی کرنے کی کوشش کی ہے لیکن امریکا کو بلیک میل نہیں کر سکتا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات اور بات چیت مثبت انداز میں آگے بڑھ رہی ہے۔
گزشتہ روز ہی ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اعلان کیا تھا کہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے کھولا جا رہا ہے۔ جس پر صدر ٹرمپ نے شکریہ بھی ادا کرتے ہوئے کہا تھا کہ آج کا دن شاندار ہے۔
تاہم آج آبنائے ہرمز کی صورتحال ایک بار پھر غیر واضح اور پیچیدہ ہو گئی ہے جب ایران کی پاسداران انقلاب نے دوبارہ بندش کا اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز اپنی سابقہ حالت میں واپس آ گئی ہے اور اب اس کا مکمل کنٹرول ایرانی مسلح افواج کے پاس ہے۔
سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق ایرانی کمانڈ نے امریکا پر الزام عائد کیا کہ وہ نام نہاد ناکہ بندی کی آڑ میں بحری قزاقی کر رہا ہے جب تک امریکا ایرانی بندرگاہوں سے آنے جانے والے جہازوں کی ناکہ بندی ختم نہیں کرتا آبنائے ہرمز ہمارے کنٹرول میں رہے گی۔