ابھی نندن والے حملے میں مودی پر اعتماد ہوئے تھے اور دوبارہ ہم پر حملہ کر بیٹھے، اگر ہم اس کا منہ توڑ جواب نہ دیتے تو یہ ہندوستان اور اسرائیل کو اور اچھا لگتا اور جب ہم منہ توڑ جواب دے بیٹھے تو ہماری اہمیت امریکا سے لے کر سعودی عرب تک بنی ۔ ہم نے یہ کامیاب منہ توڑ جواب اس لیے دے سکے کہ ہمارے پاس چین کی ٹیکنالوجی تھی۔ ہمیں دنیا بھر سے آرڈر آئے، دنیاہمارے جنگی جہاز خریدنے لگی۔ ٹرمپ نے، ہندوستان کے جو سات رافیل جہاز ہم نے گرائے، اس پر مودی کا بڑا مذاق اڑایا۔
ایران کے ساتھ بھی جون میں کچھ اس طرح ماجرا ہوا۔ اسرائیل یہی سمجھتا رہا کہ اس کے انٹرسیپٹر ایران کے پرانے میزائلوں کو روک لیں گے، ایران وہ جون والی جنگ رکوا تو گیا مگر اسے اسرائیل نے بہت دھکیلا ہوا تھا۔ حزب اللہ سے لے کر شام اور حماس تک ، اس کے اتحادی پسپا ہوئے تھے ،اور اس بار ایران نے اسرائیل کو حیران کردیا کہ اس کے پاسدران انقلاب کی ایران میں اتنی گہری جڑیں ہیں۔ دہائیوں سے انھوں نے جنگ کی تیاری کی تھی اور سب سے بڑی بات جو کسی کو سمجھ نہ آئی کہ ایران کے پاس آبنائے ہرمز کا وہ مہرہ ہے جو جنگ کے نتائج تبدیل کردے گا۔ اس کے ساتھ دو بڑی طاقتیں چین اور روس کھڑے تھے۔
اور اب پورا خلیج و فارس تبدیل ہوگیا۔ سعودی عرب کو امریکی فوج کی اب ضرورت نہیں، ان کے لیے اب پاکستان کی فوج زیادہ قابل بھروسہ ہے۔ قطر بھی یہی سمجھتا ہے ۔ پاکستان نے ایران کو یک بہت بڑی تباہی سے بچایاہے اور اگر ایرانی یہی سمجھتے ہیں تو ہم ایران سے ایک نئے رشتے سے جڑتے ہیں۔اس طرح بھی دیکھ سکتے ہیں کہ امریکا کمزور نہیں ہوا ، بلکہ چین بڑی طاقت بن کر ابھرا ہے۔ امریکا نے آبنائے ہرمز کو ایران کے لیے جب بند کیا تو اسے چین نے توڑ کر دکھایا۔ ہندوستان نے جس اسرائیل پر اپنا وزن رکھا تھا وہ ہندوستان کے لیے آبنائے ہارمز نہیں کھول سکتا، اس لیے ہندوستا ن اپنی پالیسی میں جو اسرائیل کی طرف پاکستان کے پس منظر میں جھک گیا تھا ،وہ اب اپنی پالیسی میں توازن لائے گا۔
اب ترکیہ بھی اس اتحاد میں آنا چاہتا ہے جو ہم نے سعودی عرب کے ساتھ بنایا ہے۔ ترکیہ نے اسرائیل پر حملے کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔ چین نے بھی بلاواسطہ واضح کیا ہے کہ اگر ایران پر ایٹمی حملہ ہوا تو چین اسرائیل پر حملہ کردے گا۔ سعودی عرب کی حفاظت کے لیے پاکستان پہنچ گیا ہے جو خود نیوکلیئر طاقت ہے۔ اسرائیل کا بیانیہ اب بہت محتاط بنے گا وہ گریٹر اسرائیل تو کیا اب اپنا وجود خطرے میں محسوس کرے گا۔
خود ایران ایک بہت بڑی طاقت بن کر ابھرے گاجو تین سپر طاقتیں ہیں جیسا کہ چین، رشیا اور ایران وہ آپس میں جڑی ہوئی ہیںجو چوتھی سپر طاقت ہے وہ یورپی یونین یا نیٹو جو امریکا سے دور ہوتا جارہا ہے۔ اس لیے امریکا کو ٹرمپ نے تنہا کردیا اور اس کے سنگین نتائج خود ٹرمپ کو نومبر میں ہونے والے مڈٹرم انتخابات میں بھگتنا ہوں گے۔
سوال یہ بھی ہے کہ کیا ایران تھیوکریٹک ریاست ہے ۔ بہت سے محققین یہ سمجھتے ہیں، ایران بحیثیت سماج تقسیم ہے، وہ لوگ قہوہ خانوں میں اپنی خواتین کے ساتھ بیٹھتے ہیں۔ حکومت کے خلاف بولنے کی قدرے آزادی ہے۔ ایک سسٹم ہے، آئین ہے ، پارلیمان ہے لیکن ناکافی ہیں ۔ ایران کو اب اپنے آپ کو کھوجنا ہوگا۔
ہندوستان، پاکستان اور ایران سینٹرل ایشیا کی منڈیوں تک پہنچنا چاہتے ہیں، اس کے لیے جو رکاوٹیں وہ ختم ہونی چاہیے۔ ایران اور پاکستان سات فیصد شرح نمو تک جاسکتے ہیں۔ پاکستان نے جان بوجھ کر سرد جنگ میں امریکا کا مہرہ بن کر ان کی امداد پر بھروسہ کرکے خود کو معاشی حقیقتوں سے دور رکھا۔ بہت بڑی جامع پالیسی پھر سے ترتیب دینے کی ضرورت ہے کہ ہم نئی ابھرنے والی حقیقتوں کو اپنی بہتری کے لیے استعمال کرسکیں۔
ہماری معیشت کے بہت پیچیدہ مسائل ہیں۔ ملک کے 57 فیصد لیبر فورس زراعت سے جڑی ہوئی ہے اور زراعت اب بھی پرانی جاگیرداری اقدار میں چل رہی ہے۔ ہم دیہات میں صنعتوں کا جال نہیں بچھا سکے، تعلیم کو بہتر نہیں کر پائے ، ملک کی پچاس فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے رہنے پر مجبور ہے۔ بے روزگاری بیس سال کے ریکارڈ توڑچکی ہے۔ ہماری شرح نمو اگر پانچ فیصد پر بھی پہنچ پاتی ہے تو ہمیں بیلنس آف پیمنٹ میں مسئلے آجاتے ہیں، کیونکہ ہمارا امپورٹ بل بڑھ جاتا ہے۔ ہماری اسٹیبلیشمنٹ اس غیر پیداواری اشرافیہ کے ساتھ چلنے میں اپنے آپ کو بہتر سمجھتی ہے کیوں کہ یہ شرفا کا طبقہ ہی ان کی سب باتیں مانتا ہے لیکن ملک میں مڈل کلاس قیادت اور طبقہ سیاست کے سینٹر اسٹیج پر آنے کے لیے ناگزیر ہے۔
یہی مڈل کلاس ایران میں بھی ہے اور ہندوستان یا بنگلادیش میں بھی ہے، اگر نہیں ہے تووہ مڈل کلاس پر مبنی حکمران طبقہ ، جوپاکستان میں نہیں ہے۔ کراچی میں موجود مڈل کلاس کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگادیا گیا ہے ، لہٰذا یہی بات ان میں احساس محرومی پیدا کرتی ہے۔ باقی ماندہ سندھ کے اندر مڈل کلاس اتنی کمزور ہے کہ وہ کبھی بھی پیپلز پارٹی میں موجود وڈیروں ، جاگیرداروں کا مقابلہ کرکے اقتدار نہیں لے سکتی ہے ۔ ان کو بھی ایک طرح سے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا ہوا ہے اور خود ان کے بیانیے میں مسائل ہیں۔
اس سے بدتر حالات بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی مڈل کلا س کے بھی ہیں ، وہ کبھی اقتدار تک پہنچ نہیں سکتے اور وہاں پر بھی جو غیر پیداواری طبقہ ہے اس کے ساتھ مل کر بلوچستان اور خیبر پختونخواکو چلایا جارہا ہے جو عوام کے حقیقی نمایندہ نہیں۔ ہماری کل تک افغان پالیسی تھی ، وہ کیا تھی؟ ہم ان غیر پیداواری ، ترقی کی دشمن گروپ کو ملک کے مفاد میں بہتر سمجھتے رہے ، وقت آنے پر ہمیں پتہ چلا یہ غلط ہے اور جو پاکستان کے اندر اشرافیہ طبقہ، جن کو طاقت ملی اسی افغان پالیسی سے، اسمگلنگ، منشیات اور اسلحے کا کاروبار نکلا۔
بلاشبہ پاکستان نے ایک خطرناک طوفان سے خود کو باہر نکالا ہے اور اس میں یہ ایران تھا جس نے سینہ تان کے مقابلہ کیا ، وہ اگر نہ کرتا تو سارا خلیج اسرائیل کے سامنے گھٹنے ٹیک چکا ہوتا ، اور ہندوستان نے ہمارے لیے سنگین مسائل پیدا کرنے تھے۔ ہمارے چیلنجز ابھی ختم نہیں ہوئے، اس لیے کہ پاکستان کے اندر سیاسی قوتیں انتہائی کمزور ہیں۔
ایک نئی ترتیب سے خلیج و فارس ابھر رہا ہے۔ ہمارے سامنے نئے زمانے کھڑے ہیں، نئے تقاضے، نئے پیمانے پڑے ہیں۔ ہم اب پرانے بیانے سے آگے نہیں چل سکتے، اگر ہم نے یہ موقع بھی گنوا دیا تو پھر ہمارے لیے بھی بہت مشکلات ہیں۔ پاکستان کی ترسیلات زر چالیس ارب ڈالر سے اوپر چلی گئی ہیں۔
ہماری ایکسپورٹ تیس ارب ڈالر تک آگئی ہے۔ آیندہ پانچ سالوں سے سینٹرل ایشیا ، ایران سے تجارت کے مواقعے نکل رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت سے بھی ہم اپنی سرزمین ایکسپورٹ کر سکتے ہیں ۔ اس لیے پاکستان کو ہر سال سو ادو ارب ڈالر ترسیلات زر اور ایکسپورٹ سے چاہئیں۔ کیوں کے ہمارا ایکسپورٹ بل بھی نوے ارب ڈالر تک چلا جائے گا، ایک نئی دنیا ہے ہمارے آگے، ہمیں عمران خان کا نیا پاکستان نہیں، بلکہ ایک حقیقی ترقی پسند پاکستان درکار ہے جو سمت بنا سکے، ان بدلے ہوئے زمانوں میں۔