پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے تیاریاں عروج پر ہیں اور شہر بھر میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ شہر کے بڑے حصوں کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے جبکہ بیس ہزار سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران امریکی سی -17 گلوب ماسٹر طیارہ نور خان ایئر بیس پر اترا ہے، جس کے بارے میں سمجھا جا رہا ہے کہ وہ امریکی وفد کی حفاظت کے لیے بلٹ پروف گاڑیاں اور سیکیورٹی ٹیم لے کر پہنچا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اپنے بیان میں کہہ چکے ہیں کہ امریکی وفد پیر کی شام تک اسلام آباد پہنچ جائے گا۔
حکومت کی جانب سے اسلام آباد کے دو بڑے ہوٹلوں سرینا اور میریٹ کو خالی کروا کر مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے جہاں غیر ملکی وفود کی آمد متوقع ہے۔
تاہم، ایران کی جانب سے ان مذاکرات میں شرکت کے حوالے سے مبہم اشارے مل رہے ہیں۔ خاص طور پر امریکا کی جانب سے خلیج عمان میں ایرانی بحری جہاز پر قبضے کے بعد ایران نے سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔
تاہم، اسلام آباد میں ہونے والی وسیع پیمانے پر تیاریوں سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ایرانی وفد بھی ان مذاکرات کا حصہ بنے گا۔
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے اس حوالے سے اہم گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران نے امریکا کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کا فیصلہ تو کیا ہے، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم کسی بھی قیمت پر سمجھوتہ کریں گے یا دوسرے فریق کے ہر رویے کو قبول کریں گے۔
ابراہیم عزیزی، جو پاسدارانِ انقلاب کے سابق کمانڈر بھی رہ چکے ہیں، انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران نے مذاکرات کے لیے اپنی سرخ لکیریں یعنی ریڈ لائنز طے کر لی ہیں جن کا احترام ہر صورت میں ضروری ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ایرانی ٹیم اسلام آباد جائے گی، تو انہوں نے اس کا انحصار مثبت اشاروں پر چھوڑتے ہوئے کہا کہ ہم مذاکرات کے اصول سے کبھی نہیں ڈرے، آج یا کل مزید جائزے کے بعد ہماری شرکت کا امکان ہے، بشرطیکہ امریکی ٹیم اور ان کی جانب سے ملنے والے پیغامات سے ہمیں کوئی مثبت اشارہ ملے۔
ایران نے ان مذاکرات کو جنگ کا ہی تسلسل قرار دیا ہے۔ ابراہیم عزیزی کا کہنا تھا کہ ہم موجودہ مذاکرات کو میدانِ جنگ کا ہی ایک حصہ سمجھتے ہیں اور اس میں ہمیں میدانِ جنگ کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ان مذاکرات سے ایسی کامیابیاں حاصل ہوتی ہیں جو ہمارے میدانِ جنگ کی کامیابیوں کو برقرار رکھ سکیں، تو یہ ہمارے لیے ایک موقع ہے، لیکن اگر امریکیوں کا مقصد اپنی دھونس اور دھاندلی کے ذریعے حد سے زیادہ مطالبات منوانا ہے، تو پھر صورتحال مختلف ہوگی۔
ایران اب بھی لبنان میں جنگ بندی اور اپنے منجمد اثاثوں کی بحالی کے مطالبات پر سختی سے قائم ہے۔
ابراہیم عزیزی نے خبردار کیا ہے کہ لبنان کا مسئلہ ہمارے لیے بہت اہم ہے اور اثاثوں کی واگزاری ہماری اولین شرائط میں شامل ہے۔
انہوں نے وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایسی کارروائیاں کی گئیں جو مزاحمتی محاذ کے مفادات کے خلاف ہوں یا اگر گزشتہ وعدوں کی پاسداری نہ کی گئی، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ انہوں نے ایران کی شرائط قبول نہیں کیں، اور اس کا اثر براہِ راست مذاکرات کے مستقبل پر پڑے گا۔
اس تمام تر تناؤ کے باوجود دنیا بھر کی نظریں اب پاکستان پر لگی ہیں کہ آیا یہ سفارتی کوششیں خطے کو ایک بڑی جنگ سے بچا پائیں گی یا نہیں۔