امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں ایران جنگ کے خلاف احتجاج کرنے والے 60 سے زائد سابق امریکی فوجیوں اور ان کے اہلِ خانہ کو کانگریس کی ایک عمارت میں دھرنا دینے پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے دی ہل کے مطابق مظاہرے میں شریک درجنوں سابق فوجیوں اور ان کے خاندان کے افراد، جن میں معذور افراد بھی شامل تھے انہیں حراست میں لیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق یہ مظاہرہ کینن ہاؤس آفس بلڈنگ میں کیا گیا، جہاں کم از کم 62 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق یہ احتجاج کئی سابق فوجیوں کی تنظیموں کی جانب سے منظم کیا گیا تھا۔
مظاہرین کینن عمارت کے مرکزی روٹونڈا میں جمع ہوئے، جہاں انہوں نے امریکی حملوں میں مارے جانے والے ایرانیوں کی یاد میں سرخ ٹیولپس اٹھا رکھے تھے اور ایران جنگ کے خاتمے جیسے بینرز بھی آویزاں کیے گئے تھے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ مظاہرین نے ایک پرچم تہہ کرنے کی تقریب بھی منعقد کی، جس کا مقصد اب تک اس تنازع میں ہلاک ہونے والے 13 امریکی فوجیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنا تھا، جبکہ اس دوران جنگ مخالف نعرے بھی لگائے گئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بعد ازاں کیپیٹل پولیس نے مظاہرین کو پلاسٹک ہتھکڑیاں لگا کر حراست میں لیا اور انہیں وہاں سے منتقل کر دیا۔