لبنان؛ حضرت عیسیٰ کے مجسمے کی بیحرمتی کرنے پر 2 اسرائیلی فوجیوں کو قید کی سزا

0 minutes, 0 seconds Read
لبنان کے جنوبی علاقے میں حزب اللہ کے خلاف آپریشن کرنے والی اسرائیلی فوج کے دو اہلکاروں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مجسمے کو گرا کر اس پر ہتھوڑے مارے اور ویڈیو بنائی۔  

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ جنوبی لبنان میں حضرت عیسیٰؑ کے ایک مجسمے کو ہتھوڑے سے توڑنے اور ویڈیو بنانے میں ملوث دو اہلکاروں کے خلاف محکمہ جاتی تحقیقات کی گئی۔

جس میں یہ بات سامنے آئی کہ مجسمہ توڑنے والا فوجی اور واقعے کی فلم بندی کرنے والے فوجی سمیت کم از کم 6 دیگر اہلکار موقع پر موجود تھے لیکن کسی نے نہ تو مداخلت کی اور نہ ہی واقعے کی رپورٹ دی۔

اسرائیلی فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ انکوائری کے بعد واقعے میں براہ راست ملوث 2 اہلکاروں کو نہ صرف جنگی ڈیوٹی سے ہٹا دیا گیا بلکہ 30 دن قید کی سزا دی گئی جو فوجی جیل میں کاٹیں گے۔

علاوہ ازیں واقعے کے وقت عہاں موجود دیگر 6 فوجی اہلکاروں کے خلاف مزید تادیبی کارروائی زیر غور ہے۔ یہ فیصلہ 162 ویں ڈویژن کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل سگیو ڈاہان کی سفارش پر کیا گیا۔

خیال رہی ہے کہ یہ واقعہ ایک گاؤں دیبل میں پیش آیا جہاں اکثریتی آبادی مسیح برادری کی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مجسمے کی بیحرمتی کی ویڈیو وائرل ہوئی تھیں دنیا بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی تھی۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک اسرائیلی فوجی نے مجسمے کو ہتھوڑے سے زمین گرایا اور اسے توڑنے کی کوشش کی جب کہ دوسرا فوجی تصاویر اور ویڈیو بناتا رہا۔

دریں اثنا اسرائیلی فوج نے واقعے کے فوری بعد مقامی مسیحی کمیونٹی کے ساتھ مکمل ہم آہنگی سے بحالی کا عمل شروع کیا اور اسی جگہ حضرت عیسیٰؑ کا نیا مجسمہ نصب کر دیا گیا۔

اسرائیلی فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ افسوسناک، ناقابلِ قبول اور فوجی اقدار کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ آئندہ ایسے واقعات روکنے کے لیے ضابطے مزید سخت کیے جائیں گے۔

 

Similar Posts