امریکا نے عراق پر دباؤ بڑھانے کے لیے ڈالر کی نقد ترسیل روکنے اور سیکیورٹی تعاون کے پروگرام معطل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے عراق کو امریکی ڈالر کی فراہمی معطل کرنے کے ساتھ ساتھ عراقی فوج کے ساتھ سیکیورٹی تعاون کے پروگرام بھی روک دیے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس اقدام کا مقصد بغداد حکومت پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ وہ ملک میں موجود طاقتور ایرانی حمایت یافتہ مسلح گروپس کو ختم کرے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی محکمہ خزانہ کے حکام نے تقریباً 50 کروڑ ڈالر مالیت کے امریکی کرنسی نوٹوں کی ترسیل روک دی۔
رپورٹ کے مطابق یہ رقم عراقی تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدن تھی، جو نیویارک کے فیڈرل ریزرو بینک کے اکاؤنٹس میں موجود تھی۔ تاہم امریکی حکام نے مسلح گروپس کے اثر و رسوخ اور سرگرمیوں سے متعلق خدشات کے باعث اس رقم کی فراہمی روک دی۔
رپورٹ میں امریکی اور عراقی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ فیصلہ مخصوص سیکیورٹی خدشات کے تحت کیا گیا۔
دوسری جانب امریکی محکمہ خزانہ اور ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اس رپورٹ پر تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔