تفصیلات کے مطابق چکدرہ کے تھانہ اوچ میں واقع گاؤں کی مسجد کے پیش امام نے 7 سالہ بچے کے ساتھ زیادتی کی، جس کے ثبوت مسجد میں لگے سی سی ٹی وی کیمرے میں محفوظ ہوگئے۔
پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر کے امام مسجد قاری باچان سلطان کو گرفتار کیا جس کے بعد اُس کے خلاف عدالت میں چالان پیش کیا گیا۔ ایڈیشنل اینڈ سیشن جج نے دلائل مکمل ہونے اور ثبوت کی روشنی میں امام مسجد کو مجموعی طور پر 21 سال قید اور 11 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔
عدالت نے جرم ثابت ہونے پر دفعہ 376 کے تحت 14سال قید بامشقت اور ایک لاکھ روپے جرمانے، اسی طرح خیبر پختونخوا چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ کے تحت سات سال قید اور دس لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔
عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ جرمانے کی رقم جمع نہ کرنے پر مجرم کو مزید چھ ماہ قید کی سزا کاٹنی ہوگی۔
ایف آئی آر کے مطابق واقعہ 4 نومبر 2024 کو تھانہ اوچ کے حدود میں ادی نزئی کے ایک مسجد کے پیش امام قاری باچا سلطان نے نماز عصر کے بعد ایک سات سالہ بچے کو اکیلا پاکر مسجد کے اندر اپنے کمرے میں لے گیا اور زبردستی بدفعلی کے جرم کا ارتکاب کیا تھا۔
تھانہ اوچ کے ایڈیشنل ایس ایچ او محبوب شاہ نے بچے کے چچا کی رپورٹ پر مجرم باچا سلطان کے خلاف زنا بالجبر اور مسجد کا تقدس پامال کرنے پر مقدمہ درج کروایا تھا۔