بین الاقوامی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق مسٹر بیسٹ کی کمپنی کی سابق سوشل میڈیا منیجر لورین میورومیٹس نے نارتھ کیرولینا کی وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں زچگی کی چھٹی ختم ہونے کے محض تین ہفتے بعد ہی ملازمت سے فارغ کر دیا گیا، حالانکہ وہ کئی برسوں سے کمپنی کا حصہ تھیں۔
ان کا کہنا ہے کہ دورانِ حمل اور زچگی کے وقت بھی ان پر کام کا دباؤ برقرار رکھا گیا، یہاں تک کہ وہ اسپتال میں بھی میٹنگز میں شریک ہوتی رہیں کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ انکار کی صورت میں نوکری سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔
مقدمے میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ کمپنی کا ماحول خواتین کے لیے نامناسب اور تضحیک آمیز تھا، جبکہ کمپنی کے سی ای او جیمز وارن کے حوالے سے بھی غیر موزوں گفتگو کا ذکر کیا گیا ہے۔
لورین کے مطابق یہ تمام اقدامات امریکی قوانین، خصوصاً فیملی اینڈ میڈیکل لیو ایکٹ، کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔
دوسری جانب مسٹر بیسٹ کی کمپنی ’بیسٹ انڈسٹریز‘ نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دعوے محض شہرت حاصل کرنے کی کوشش ہیں۔ کمپنی کے مطابق لورین کو ہراساں کرنے کی وجہ سے نہیں بلکہ تنظیمی تبدیلیوں اور ان کے عہدے کے خاتمے کے باعث ملازمت سے الگ کیا گیا۔
اس کے ساتھ کمپنی نے کچھ پیغامات کے اسکرین شاٹس بھی پیش کیے جن میں ساتھی ملازمین کی جانب سے لورین کو ڈیلیوری کے دوران آرام کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا، تاہم لورین کا کہنا ہے کہ ادارے کی پالیسیوں کا دباؤ ان پر مسلسل برقرار تھا۔
یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جمی ڈونلڈسن کو عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل ہے اور انہیں حال ہی میں بااثر ترین شخصیات کی فہرست میں بھی شامل کیا جا رہا ہے۔ یہ قانونی جنگ ان کے برانڈ اور میڈیا سلطنت کی ساکھ کے لیے ایک بڑا امتحان ثابت ہو سکتی ہے۔