حکام کے مطابق 27 سالہ ملزم ہولیو سیزر نے اکیلے ہی اس حملے کی منصوبہ بندی کی اور اسے انجام دیا۔ حملے کے بعد پولیس کے ساتھ مختصر مقابلے کے دوران اس نے خود کو گولی مار کر ہلاک کر لیا۔
واقعے میں ایک کینیڈین خاتون ہلاک جبکہ 13 افراد زخمی ہوئے۔ یہ مقام سیاحوں کے لیے انتہائی مشہور ہے اور فائرنگ کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کے پاس سے ایک پستول، بڑی تعداد میں کارتوس، ایک چاقو اور ایسے دستاویزات برآمد ہوئے ہیں جن میں پرتشدد واقعات کا حوالہ موجود تھا۔
تحقیقات کے مطابق ان دستاویزات میں کولمبیا ہائی اسکول قتل عام جیسے واقعات کا ذکر بھی شامل تھا، جس سے شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حملہ آور بیرونِ ملک پیش آنے والے واقعات سے متاثر تھا۔
🇲🇽 New footage from Teotihuacán shows the masked gunman walking calmly toward the pyramids with a backpack moments before opening fire.
A Canadian woman is dead. 13 wounded.
Truly chilling video.pic.twitter.com/qfpdZSm8LB https://t.co/LIxSOXIzXP
— Mario Nawfal (@MarioNawfal) April 24, 2026
ریاست میکسیکو کے اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ملزم نے یہ کارروائی تنہا کی اور اس کے کسی منظم گروہ سے تعلق کے شواہد نہیں ملے۔
واقعے کے بعد سیکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور تحقیقات جاری ہیں، جبکہ حکومت نے سیاحتی مقامات پر سیکیورٹی مزید سخت کرنے کا عندیہ دیا ہے۔