طبی ماہرین کے مطابق اگر وٹامن ڈی بغیر کسی ٹیسٹ یا ڈاکٹر کے مشورے کے زیادہ مقدار میں لیا جائے تو یہ جسم میں جمع ہو کر مختلف پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔ چونکہ یہ چکنائی میں حل ہونے والا وٹامن ہے، اس لیے یہ آسانی سے جسم سے خارج نہیں ہوتا اور آہستہ آہستہ زہریلے اثرات دکھا سکتا ہے۔
ایسی صورتحال میں کچھ علامات ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں جو خطرے کی گھنٹی سمجھی جاتی ہیں۔ ان میں متلی، الٹی، بھوک میں کمی، غیر معمولی پیاس، بار بار پیشاب آنا اور چکر آنا شامل ہیں۔
اس کے علاوہ شدید تھکن، کمزوری، ذہنی الجھن، سر درد، قبض، دل کی دھڑکن کا بے ترتیب ہونا اور ہڈیوں یا پٹھوں میں درد بھی وٹامن ڈی کی زیادتی کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق خون میں کیلشیم کی مقدار کا بڑھ جانا (ہائپرکیلسمیا) گردوں کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ خصوصاً وہ افراد جو 50 ہزار آئی یو جیسی زیادہ مقدار بار بار استعمال کرتے ہیں، انہیں زیادہ خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ اس طرح کی زائد خوراک جسم میں جمع ہو کر وقت کے ساتھ زہریلے اثرات پیدا کرسکتی ہے۔
اگر ان میں سے کوئی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر وٹامن ڈی کا استعمال روک دینا چاہیے اور کسی مستند ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ خون کے ٹیسٹ، خصوصاً 25-او ایچ وٹامن ڈی اور کیلشیم لیول چیک کروانا بھی انتہائی اہم ہے تاکہ صورتحال کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔
ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ وٹامن ڈی کا استعمال ہمیشہ ڈاکٹر کے مشورے اور ٹیسٹ کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ خود سے سپلیمنٹس لینا یا زیادہ مقدار استعمال کرنا صحت کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ یاد رکھیں، اعتدال اور طبی رہنمائی ہی محفوظ اور بہتر صحت کی ضمانت ہے۔